تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 230 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 230

تاریخ افکارا سلامی ۲۱ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور علی انحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے وصی ہیں۔انى أَنَّهُ وَجَدَ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ لِكُلِّ نَبِي وَصِيَّا وَأَنَّ عَلِيًّا وَصِيُّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَأَنَّهُ خَيْرُ الاَ وُصِيَاءِ - كويا على کے وصی ہونے کے نظریہ کا موجد عبد اللہ بن سبا ہے۔٢ - البَيَانِيه۔یہ فرقہ بیان بن سمعان کا پیرو تھا۔ان کا دعوی تھا کہ امام محمد بن الحنفیہ کے بیٹے امام ابو ہاشم مہدی منتظر ہیں اور انہوں نے نہ تو محمد بن علی عباسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا اور نہ عبد اللہ بن معاویہ جعفری کو بلکہ انہوں نے اپنے مقرب شاگر د بیان بن سمعان کو اپنا جانشین بنایا تھا۔اس گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ روح اللہ حضرت علی سے منتقل ہو کر اُن کے بیٹے محمد بن الحنفیہ میں اور اس کے بعد اُن کے بیٹے ابو ہاشم میں حلول کئے رہی اور اُن کے بعد بیان بن سمعان میں آبسی۔چنانچہ وہ کہتے ہیں۔إِن رُوحَ الإِلَهِ تَنَاسَخَتُ فِي الْأَنْبِيَاءِ وَالأَئِمَّةِ حَتَّى انْتَقَلَتْ إِلى بَيَانِ ابْنِ سَمُعَان التيمي بيان اس بات کا بھی مدعی تھا کہ آیت کریمہ هذَا بَيَان لِلنَّاس میں اُس کا ذکر ہے۔وہ کہا کرتا تھا کہ انا البَيَانُ وانا الهدى والموعظة ـ بیان کا یہ بھی دعوی تھا کہ وہ اسم اعظم جانتا ہے جس کی طاقت سے وہ دُنیا میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔بیان کا نظریہ تھا کہ چہرہ کے سوا خدا کا سب وجود فنا ہو جائے گا ( العیاذ باللہ) کیونکہ قرآن کریم میں دارد ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ويَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ سے اورسورہ قصص میں فرمایا۔كُلُّ شَيْ مَالِكَ إِلَّا وَجْهَهُ - بانه كانیه دعویٰ بھی تھا کہ بیان اللہ کا نبی ہے اور اُس نے مبعوث ہو کر شریعت محمدیہ کو منسوخ کر دیا ہے۔عراق کے اموی حاکم خالد بن عبد الله القسری نے بیان کو اُس کی شرارتوں کی وجہ سے گرفتار کر لیا اور اُسے سولی دینے سے پہلے اُس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ان كُنْتَ تَهْزِمُ الْجُيُوشَ بِالْاِسْمِ الْأَعْظَمِ إِنْ الَّذِي تَعْرِفُهُ فَاهْزِمُ بِهِ أَعْرَانِي - الفرق بين الفرق صفحه ۱۷۸۰۱۷۷ - فرق الشیعه صفحه -۲۲ علی و بنوه لطه حسین مصری صفحه ۱۷۱۰۱۱۲٬۹۳ بعض کے نزدیک یہ نظریہ عبداللہ بن السوداء الیہودی نے پیش کیا تھا اور بعض کی رائے ہے کہ عبد اللہ بن سبا اور عبداللہ من السوداء یہودی در اصل ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔علی و بنوه صفحه ۴۳ الرحمن : ۲۷-۲۸ - فرق الشیعه صفحه ۳۴ - القصص: ۸۹ الفرق بين الفرق صفحه ۸۰ -