تاریخ افکار اسلامی — Page 231
تاریخ افکا را سلامی ۳۳۱ المُغيريه به فرو بگیره بن سعيد العجلی کا پیر د تھا۔مغیرہ پہلے امام محمد باقر کا عقیدت مند تھا۔پھر ان کی امامت کے بارہ میں شک کرنے لگا اور ان کی وفات کے بعد امام جعفر صادق کی امامت قبول کی پھر امام محمد النفس الزكيه بن عبد اللہ کا عقیدت مند بن گیا۔اس کا نظر یہ تھا کہ یہ محمد ہی مہدی منتظر ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مغیرہ نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد نبوت کا دعوی کیا لے وہ اس بات کا بھی مدعی تھا کہ وہ اسم اعظم جانتا ہے اور وہ اس کی طاقت سے مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اور بھاری لشکروں کو شکست دے سکتا ہے۔اُس کا یہ نظریہ بھی تھا کہ خدا ایک نورانی انسانی شکل رکھتا ہے اور اُس کے اعضاء حروف ہجاء کی صورت پر ہیں و ہدیہ بھی مانتا تھا کہ خدا جب کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسم اعظم بولتا ہے۔سَبِّحِ اسْمَ ربک الاعلی میں اسی اسم اعظم کی طرف اشارہ ہے۔وہ نظر یہ تخلیق کی یوں تشریح کیا کرتا تھا کہ خدا نے جب اسم اعظم بولا تو و واسم اعظم اُس کے سر کا تاج بن گیا پھر اس نے اپنی انگلی سے ہتھیلی پر اپنے بندوں کے اعمال اور ان کی تقدیر میں لکھیں۔جب اُسے اپنے بندوں کے گنا ونظر آئے تو اُسے سخت غصہ آیا اور خضہ سے پسینہ پسینہ ہو گیا یہ پسینہ دو سمندر بن گیا ایک شیریں اور ایک نمکین اور تلخ شیریں سمندر سے شیعہ پیدا ہوئے اور کڑوے سمندر سے شیعوں کے دشمن کافر۔سمندر کے پانی میں خدا کو اپنا سایہ نظر آیا تو خدا اُسے پکڑنے کے لئے دوڑا کہ اُسے فنا کر دے تا کہ وہ سایہ اور عمل دوسرا خدا نہ بن سکے چنانچہ اس نے اپنے سایہ کو پکڑ کر فنا کر دیا لیکن اس کی وہ آنکھیں بچ گئیں۔چنانچہ ایک آنکھ سے سورج پیدا ہوا اور دوسری سے چاند۔دوسری اشیاء کی تخلیق کا آغاز پانی سے ہوا۔سب سے پہلے ظل محمد پیدا ہوا اور آیت کریمہ قال انسا كان للرحمنِ وَلَدٌ فَأَنا أول العبدِین میں ظل محمد" کی طرف ہی اشارہ ہے پھر قل لِلرِّحْمَنِ اوَلُ الْعَبِدِينَ " محمد سے دوسرے اظلال الناس پیدا ہوئے۔بغیر نے آیت کریمہ إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ على السموتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ سے کی تغییر اس طرح بیان کی ہے کہ امانت سے مراد حضرت علی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی حمایت اور حفاظت کی ذمہ داری آسمان و زمین اور پہاڑوں کو سو مینی چاہی لیکن انہوں نے معذرت کی کہ وہ یہ ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتے۔اس موقع پر عمر نے ابو بکر سے کہا دعائم الاسلام جلدا صفحه ا- العقيلة و الشريعة في الاسلام صفحه ۱۸۵ الزخرف : ۸۲ الاحزاب : ۷۳