تاریخ افکار اسلامی — Page 5
تاریخ افکار را سلامی و اہل السنت والجماعت کے علماء کے نزدیک مسلمان وہ ہے جو کلمہ شہادت کا اقرار کرتا ہے۔عالم یعنی کائنات کو حادث اور صرف اللہ تعالی کی پیدا کردہ مانتا ہے۔خدا تعالیٰ کو قدیم مانتا ہے اور اس کی صفات کا قائل ہے۔اس کو عادل اور حکیم مانتا ہے اس کو بے مثال مانتا ہے یعنی لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ کی صداقت کا قائل ہے۔نیز وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا قائل ہے کہ آپ سارے عالم کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں۔ان کی لائی ہوئی شریعت دائی ہے اور یہ کہ وہ بر حق اور واجب العمل ہے اور قرآن کریم احکام شریعت کا منبع ہے اور کعبہ نماز کا قبلہ ہے۔علامہ بغدادی مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔إِنَّ أُمَّةَ الْإِسْلَامِ تَجْمَعُ الْمُقِرِيْنَ بِكَلِمَتِهِ الشَّهَادَةِ وَبِحُدُوْثِ العَالَمِ وَتَوْحِيدِ صَانِعِه وقدَمِهِ وَ صِفَاتِهِ وَ عَدَلِهِ وَ حِكْمَتِهِ وَ نَفَى التّشْبِيْهِ وَمَعَ ذَلِكَ يُقِرُّونَ بِنُبُوَّةِ على الله مُحَمَّدٍ وَ رِسَالَتِهِ إِلَى كَافَّةِ النَّاسِ وَ بِتَابِيْدِ شَرِيعَتِهِ وَ بِأَنَّ كُلَّ مَا جَاءَ بِهِ حَقٌّ وَ باَنَّ الْقُرْآنَ مَنبع أحكام الشَّرِيعَةِ وَأَنَّ الْكَعْبَةَ هِيَ الْقِبْلَةُ الَّتِي تَجِبُ الصَّلَوةُ إِلَيْهَا فَكُلُّ من أقر بذلك كُلَّه فَهُو المسلم الى الموحد۔اس تعریف کی رو سے وہ باطنی فرقے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے دائی ہونے کے قائل نہیں یا بیانی ہیں یا مغیری ہیں یا خطابی ہیں یہ سب ائمہ اہل بیت کی الوہیت کے قائل الفرق بين الفرق صفحه 1 ( (1) إِنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ عَدَدًا كَبِيرًا مِنْ عَائِلَاتِ الْكُوفَةِ وَالْبَصْرَةِ إِلى خُرَاسَانَ وَاسْكَنَهُمْ فِيهَا۔۔۔( وَقَدْ اَرْسَلَ إِلَيْهَا رَأَى حَرَاسَانَ بَلَحْ نِيَسَابُوُر۔وَ مَرُو الْمَنطِقَةٌ فِي مُلْتَقَى افغانستان و ایران) زُهَاءَ خَمْسِينَ أَلْفًا مِّنَ الْبَصْرِيِّينَ وَالْكُوفِيِّينَ بِعِيَالَا تِهِمْ وَ هَشَامُ بْن عَبْدِالْمَلِكِ أَرْسَلَ إِلَيْهَا عِشْرِينَ أَلْفًا مِّنْ أَهْلِ الْبَصَرَةِ وَالْكُوفَةِ ۳) وَأَنَّ الْحَجَّاجَ فَدَشَتَّتَ الْكُوفِيِّينَ فِى الْبَعْوَثِ وَالْمَغَازِى وَكَانَ يَرَى أَنْ ذَلِكَ آدَری دَوَاء لِدَائِهِمْ وَ إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ هَاجَرُوا مِنَ الْكُوفَةِ وَتَوَطَّنَوا قُم بَعدَ أَنْ قَتَلَ الْحَجَّاجُ رَئِيسَهُمْ مُحَمَّدَ بْنِ السَّائِبِ الْأَشْعَرِى۔۔۔۔۔وَأَنَّ قَبَائِلَ هَذِهِ الْعَرَبِ فِي خُرَاسَانَ قَدْ ذَابُوْا فِي الْمُجْتَمَعِ الْخُرَاسَانِي فَلَمْ يَعُودُوا وَاضِحِيْنَ مِنْ بَيْنِ الْخَرَاسَانِيِّينَ۔الصَّلَة بين التصوف والتشيع في۳۱۸،۲۸۳۰۲۸۲)