تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 229 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 229

تاریخ افکا را سلامی ٢٢٩ عبد اللہ بن معاویہ کے گروہ کو خاصی کامیابی نصیب ہوئی اور یہ گرو ہ عراق اور خراسان کے علاقوں پر قابض بھی ہو گیا لیکن یہ قبضہ عارضی ثابت ہوا۔ابو مسلم خراسانی جو عباسیوں کا حامی تھا اُس نے عبد اللہ بن معاویہ کی تحریک کو کچل دیا اور عبد اللہ کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا اور وہ قید کی حالت میں ہی فوت ہوئے۔عبداللہ کے پیر وعبداللہ کی البیت کے قائل ہیں اور تاریخ کے نظریہ کو بھی مانتے ہیں كَمَا سَيَجِيءُ لیے اعتدال پسند فرقوں کے بارہ میں اہل سنت کا مسلک علا مہ بغدادی صاحب کتاب الفَرْق بَيْنَ الفِرق اعتدال پسند فرقوں کے بارہ میں کہتے ہیں کہ امامیہ، زیدیہ، خوارج اور معتزلہ وغیرہ فرقے جو غلو میں حد سے نہیں بڑھے وہ اپنی بدعات کے باوجود بعض احکام میں اُمت اسلامیہ کا حصہ ہیں اور اُس میں داخل سمجھے جاتے ہیں۔ہے شیعوں کے بعض مملو پسند فرقے جو امت مسلمہ میں شامل نہیں سمجھے جاتے - السَّبَئِيه- یہ فرقہ عبد اللہ بن سبا کا پیرو تھا۔اس فرقہ کے بعض لوگ حضرت علی کو نبی مانتے تھے اور بعض انہیں خدا کہتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ جب حضرت علی کو ان کی اس قسم کی گمراہیوں کا علم ہوا تو آپ نے حضرت ابن عباس کے مشورہ سے اس گروہ کے سرغنہ عبداللہ بن سبا کو مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا لیکن وہاں بھی وہ شرارت سے باز نہ آیا۔خفیہ طور پر عقائد باطلہ پھیلاتا رہا کیونکہ اس کا اصل مقصد امت مسلمہ میں انتشار پھیلانا تھا جس کے لئے اُس نے اہل بیت سے محبت اور موالات کو بطور ہتھیا راستعمال کیا۔چنانچہ حضرت علی کی شہادت کے بعد عبد اللہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علی قتل نہیں ہوئے بلکہ شیطان قتل ہوا ہے جس نے علی کی شکل اختیار کر لی تھی۔اس کا قول تھا کہ إِنَّ عَلِيًّا صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَا صَعِدَ عِيسَى وَإِنَّهُ سَيَنْزِلُ إِلَى الدُّنْيَا وَيَنْتَقِمُ مِنْ أَعْدَائِهِ - L عبداللہ بن سبا حضرت علی کو مہدی منتظر قرار دیتا تھا اور کہتا تھا کہ بادلوں میں جو بجلی کوندتی ہے وہ علی کا کوڑا ہے اور گرج علی کی آواز ہے۔اسی طرح بعض کے نز دیک عبد اللہ بن سبا یہ بھی کہتا تھا کہ الفرق بين الفرق صفحه ۲۶ چنانچہ علامہ لکھتے ہیں۔هُوَ مِنْ جُمَلَةِ أُمَّةِ الْإِسْلَامِ فِي بَعْضِ الاحكام وَ هُوَ أَنْ يُنفَنُ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ وَلَا يُمْنَعُ مِنْ دُخُولِ مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ وَمِنَ الصَّلَوةِ فِيهَا وَيَخْرُجُ فِي بَعْضِ الأَحْكامِ عَنْ أُمَّةِ الإِسْلامِ وَ ذَلِكَ أَنَّهُ لَا تَجُوزُ الصَّلوةُ عَلَيْهِ وَلَا الصَّلوةُ خَلَفَهُ وَلَا تَحِلُّ ذَبِيحَتَهُ وَلَا تَحِلُّ الْمَرَأةَ مِنْهُم لِلسَّنِي وَلَا يَصِحُ نِكَاحَ السَّيِّئَةِ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ (الفرق بين الفرق صفحه ١٦٧)