تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 226 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 226

تاریخ افکا را سلامی ۲۲۶ الزیدیہ کے ذیلی فرقے - اَلْجَارُودِيَّهِ السُّلَيْمَانِيَّه - البُتْرِيَّه الْجَارُوُدِيَّه - فرقہ ابو الجارود کا پیرو تھا۔اس فرقے کا نظریہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نام لے کر حضرت علی کو جانشین مقرر نہیں کیا تھا بلکہ آپ نے بعض ایسے اوصاف بیان کئے تھے جو حضرت علی میں پائے جاتے تھے اور جس کا مفہوم یہ تھا کہ میرے بعد علی کو میرا جانشین مانا جائے - أى أن النبي نَصَّ عَلَى إِمَامَةِ عَلِي بِالْوَصْفِ دُونِ الاسم مگر صحابہ اس ہدایت کی پابندی نہ کر کے کفر کے مرتکب ہوئے۔جار ودیہ کا یہ نظریہ بھی ہے کہ حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین کی امامت وصفا منصوص “ ہے اور اس کے بعد حضرت علی کی فاطمی اولاد میں سے شوری یعنی انتخاب کے ذریعہ امام منتخب ہو گا بشرطیکہ وہ صاحب السیف ہو۔جارودیہ کی ایک شاخ کا یہ نظریہ ہے کہ امام محمد بن عبد اللہ ”مہدی منتظر ہیں۔کو یا جو نظریہ امامیہ میں سے فرقہ المحمدیہ کا ہے و ہی نظر یہ ان کا بھی ہے لیکن زید یہ کے دوسرے فرقے امام حاضر کے قائل ہیں یعنی اُن کے نزدیک جب امام نوت ہو جائے تو اُس کی وفات کے بعد بذریعہ انتخاب دوسرا امام مقرر کرنا ضروری ہے۔اَلسُّلَيْمَانِيہ۔یہ فرقہ سلیمان بن جریر کا پیرو ہے۔اس فرقہ کا نظریہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو امام مانے کی وصفاً تا کید کی تھی نہ یہ کہ آپ کا نام لے کر آپ کو خلیفہ ماننے کا حکم دیا تھا لیکن صحابہ نے اس ہدایت کے مطابق حضرت علی کو اپنا امام نہ مانا بلکہ ابو بکر کو امام منتخب کر لیا مگر صحابہ کی یہ غلطی اجتہادی تھی یعنی انہوں نے ترکی اولی کیا اس لئے اس غلطی کی وجہ سے نہ وہ کافر ہیں اور نہ مستوجب سزا لے غرض یہ فرقہ افضل کی موجودگی میں مفضول کو امام مان لینے کو زالے جائز سمجھتا ہے، اس لئے اس فرقہ کے نزدیک ابو بکر اور عمر امام برحق اور خلیفہ راشد تھے تا ہم یہ فرقہ حضرت عثمان کی تکفیر کرتا ہے۔البتريه - يفرقہ صالح بن حتى اور كَثِيرُ النَوَاءِ الابتر کا پیرو ہے۔ان کا نظریہ بھی خلافت کے بارہ میں وہی ہے جو سلیمانیہ کا ہے لیکن یہ حضرت عثمان کی تکفیر نہیں کرتے۔فَهو لاءِ أَحْسَنُ حَالا العقيلة والشريعة في الاسلام صفحه ۲۱۱