تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 225 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 225

تاریخ افکارا سلامی ۲۲۵ میں کیا نظریہ رکھتے ہیں۔حضرت زید نے جواب دیا میں ان کو اپنا بزرگ مانتا ہوں وَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا خَيْرًا وَ مَا سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ فِيهِمَا إِلَّا خَيْرًا اس پر یہ معترضین اور اُن کے پیر وسب آپ سے الگ ہو گئے صرف دو سو آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے اس پر آپ نے فرمایا۔یہ لوگ جنہوں نے مین میدان جنگ میں غداری کی ہے رافضی ہیں۔اس طرح پہلی دفعہ شیعوں کا نام رافضی پڑا۔بہر حال زید اور اُن کے دو سو ساتھی لڑتے ہوئے سب کے سب شہید ہو گئے۔حضرت زید کی تدفین ہوئی لیکن عراق کے اُموی والی نے آپ کی نعش کو قبر سے نکال کر سولی پر لٹکا دیا۔یہ جنگی نقش کئی دنوں تک لکتی رہی۔اس کے بعد اُسے اُتار کر جلا دیا گیا۔حضرت امام زید کے بیٹے بیٹی خراسان کی طرف بھاگ گئے لیکن وہاں کے والی سے جنگ کرتے ہوئے وہ بھی شہید ہو گئے۔خراسان کے شہر جو ز جان میں اُن کا مزا راب تک مرجع عوام ہے۔کوفیوں کی اس قسم کی غداریوں کی وجہ سے جو انہوں نے مسلسل ائمہ اہل بیت سے روا رکھیں یہ محاور مشہور ہو گیا کہ هُوَ اغْدَرُ مِنْ كُوفِی کیونکہ کوفیوں نے سب سے پہلے حضرت علی سے غداری کی جو بالآخر حضرت علی کی شہادت پر منتج ہوئی۔اس کے بعد انہوں نے حضرت حسن کی بیعت کی لیکن اس پر وہ قائم نہ رہے اور ایک موقع پر آپ کو نیزہ مار کر گھوڑے سے گرا دیا۔حضرت امام حسن نے ان کی یہ حالت دیکھ کر امیر معاویہ سے مصالحت کرلی۔اس کے بعد اہل کوفہ نے امام حسین کو مکہ سے بلوایا لیکن بعد میں آپ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور ان کی اس غداری کی وجہ سے امام حسین اور ان کا سارا خاندان میدان کر بلا میں شہید ہو گیا۔صرف امام زین العابد بین بوجہ بیماری اور امام حسن مشقی بوجہ صغرسنی بیچ سکے۔امام حسین کو شہید کرنے والے بھی سب کے سب کوفی تھے اُن میں ایک بھی شامی نہیں تھا۔اس کے بعد امام حسین کے ہوتے حضرت زیڈ سے غداری کے یہ مرتکب ہوئے۔غرض اہل کوفہ کی غداریوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ائمہ اہل بیت کی وفاداری کا عہد کرتے ، ان کی بیعت کرتے لیکن جلد ہی اپنے عہد سے پھر جاتے اور بعض اوقات میں میدان جنگ میں اپنے امام کو تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے۔حضرت زید کی شہادت کے بعد زید یہ مندرجہ ذیل تین فرقوں میں بٹ گئے۔