تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 202 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 202

تاریخ افکا را سلامی ١٠ كَان عَلى صَاحِبَ لِوَاءِ النَّبي لالا لالا لاله یعنی خیبر کی جنگ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کو اپنا جھنڈا دیا اور کہا علی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پیارا ہے۔چنانچہ آپ کی قیادت میں خیبر کا ایک بڑا مضبوط قلعہ سر ہوا۔- النَّبِيِّ ا كَانَ عَلِيٌّ مِنْ آل النبي الا الله - یعنی حضور نے آیت تطہیر کے نزول کے وقت حضرت علی کو اپنی آل میں شامل فرمایا تھا اور آپ کی آل میں سے ہونا ایک ایسا اعزاز ہے جو کسی اور صحابی کو نصیب نہیں ہوا ہے -١٢- كَانَ عَلى وصى النبي الله لعن النحضرت ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے یہ وصیت وَصِيَّ النَّبِيِّ یعنی فرمائی تھی کہ میرے بعد علی خلیفہ اور نا ئب ہوں گے۔نیز خم غدیر کے موقع پر حضرت علی کے بارہ میں فرمایا مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاة کہ جس کا میں مولا اور دوست ہوں علیؓ بھی اُس کے مولا اور دوست ہیں۔اے اللہ جو علی سے محبت رکھے اور اُس کا بھلا چاہے تو بھی اُس سے محبت رکھا اور اُسے یہ کات عطا کر اور جو علی سے دشمنی رکھے اور اُس کا بُرا چاہے تو بھی اس سے دشمنی رکھا اور اُسے ہر قسم کی برکات سے محروم کر دے ہے كان على وصى الله تعالى شانه - یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کردیں کہ ان کے بعد علی خلیفة المسلمین اورامیر المومنین ہوں گے۔کے یہ وصیت قرآن کریم کے ساتھ ایک صحیفہ کی شکل میں نازل ہوئی تھی اور آنحضرت علی لے تو اللہ کے اس حکم کو لوگوں تک پہنچانے کے پابند تھے۔چنانچہ آیت کریمہ نايُّهَا الرَّسُولُ بَلغَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ لے آیت تطہیر کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ اس میں ازواج مطہرات بدرجہ اول شامل ہیں اور اگر مذکور بالا روایت انہی الفاظ میں مستند اور صحیح ہے تو اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنے نہیں کہ حضور نے اس طرح خواہش کا اظہار کیا تھا اور دعا کی تھی کہ یہ لوگ بھی ان برکات کے حامل ہوں جو آیت تطہیر میں گنوائی گئی ہیں۔نیز حدیث گل تَقِيُّ فَهُوَ آلِی بھی قابل غور ہے۔(اخرجه الطبراني - نيل الأوطار جلد ۲ صفحه (۲۸۵ تاريخ الشيعة صفحه ۲۱ اثبات الوصية للمسعودی صفحه ۱۲۱ اصول الکافی جلد اول صفحه -۲۸۹۔جلد اوّل صفحه ۲۸۵