تاریخ افکار اسلامی — Page 188
تاریخ افکا را سلامی IAA جواب میں کہتے یہ ایک رائے ہے اور رائے کا دینیات میں کوئی دخل نہیں۔اس قسم کے لھذوذ کے با وجود امام ابن حزم کی کتب بڑی وسیع الادبال ہیں اور ان کے اعلی علمی پایہ کا تمام حق پرست علماء نے اعتراف کیا ہے اور انہیں مصاد را سلام کا بہترین مجموعہ قرار دیا ہے۔آپ کی فقہی نظریات پر مشتمل کتب کا ایک نقص نمایاں ہے اور اس کا سب علماء نے نوٹس لیا ہے کہ آپ نے بعض ائمہ کے بارہ میں بڑی سخت زبان استعمال کی ہے جس کا کوئی سنجیدہ مزاج محقق روادار نہیں ہو سکتا اور نہ اس کا کوئی جواز پیش کیا جاسکتا ہے ہے بعض محققین نے اس درشتی کی وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس سخت کلامی کی ایک وجہ تو خود ابن حزم نے لکھی ہے کہ بچپن میں ان کو طحال (تلی ) کی خرابی کا عارضہ لاحق ہوا جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ اپنے غصہ کو پی نہیں سکتے تھے۔بڑے مشتعل المزاج ، قليل الصبر اور ضِيْقُ الْخُلُق بن گئے تھے اور اپنے پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے تھے۔دوسرے بڑی سخت سیاسی مشکلات سے ان کو دو چار ہونا پڑا۔با ر بارسیاسی انقلابات سے گزرے جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں تیزی آگئی تھی۔تیسرے علماء وقت کی حد سے بڑھی ہوئی سراسر ضد پر مشتمل دشمنی تھی۔وہ باربار آپ کی علمی مشکلات کا باعث بنتے۔انہی کی شورش کی وجہ سے آپ کی علمی کتب جلائی گئیں۔یہ تمنی اُن کو اُکساتی تھی کہ ان علماء کے بزرگوں کی ہتک کر کے ان کے دل کو جلائیں اور اپنے دل کو ٹھنڈا کریں۔سکے ابن حزم کے مندرجہ ذیل شاگردوں اور عقیدت مندوں نے آپ کے خیالات کو عام کیا اور ان کی کتب کو پھیلایا۔علامہ محمد بن ابی نصر الحمیدی: انہوں نے مشرقی علاقوں میں آپ کے خیالات کو پھیلایا يز الجمع بين الصحیحین کے نام سے بخاری اور مسلم کی احادیث کا بہترین مجموعہ تیار کیا الصَّحِيحَین جسے علماء نے بہت پسند کیا۔ذالک رأى ولا رأى فى الدِّينِ (محاضرات صفحه ۴۳۲٫۳۷۸) قيل لسان ابن حزم وسيف الحجاج صنوان الامام الشافعی صفحه ۱۸۴) قبل ان ابن حزم عَلِمَ العِلم و لم يعلم سياسة العلم ( محاضرات صفحه ۳۹۸ و ۴۰۰ )۔