تاریخ افکار اسلامی — Page 187
تاریخ افکار را سلامی ۱۸۷ بہت تنگ کیا۔آپ کی کتابوں کو جلا دیا اور صرف وہی بچیں جو اُن کے شاگردوں کے پاس ملک کے مختلف حصوں میں محفوظ تھیں لے اس کے ساتھ ہی اُن کو مجبور کیا گیا کہ وہ شہر کی رہائش چھوڑ دیں چنانچہ وہ اپنے پیدائشی گاؤں جہاں ان کی زرعی زمین تھی چلے گئے لیکن علم کے پیاسے نوجوان طلبہ وہاں بھی پہنچے اور آپ کے علمی فیضان کو روکا نہ جا سکا۔امام ابن حزم کی آراء، ان کے شاگر داور ان کی کتب امام بن حزم کا مزاج عقلی بھی تھا اور نقلی بھی۔اسی وجہ سے آپ نے اس زمانہ کے ہر مروجہ علم کو پڑھا اور ہر موضوع پر لکھا۔آپ کا موقف تھا کہ دنیوی علوم میں عقل کا دخل ہے اور اس کو انہیں علوم تک محمد و درکھنا چاہیے۔مذہب ودین کا معاملہ وحی و الہام سے ہے اس لئے دین کے بارہ میں و صرف نقل قابل اعتماد ہے۔قرآن وحد بیث میں جو کچھ آیا ہے اُسے من وعن بغیر کسی تاویل کے ماننا چاہیے۔اس میں عقل کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں گمراہ کر دے گی۔پس نقل یعنی وحی والہام کو معقولة المعنى قرار دینا اور احکام کی وجہ اور مصلحت تلاش کرنا بے معنے اور فضول بات ہے کیونکہ دوسرے الفاظ میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اُس نے یہ احکام کیوں نازل کئے اور یہ کسی مصلحت پر مبنی ہیں حالانکہ فعال لِمَا يُرِيدُ ہے وہ جیسا چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے حکم دیتا ہے وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔اسی نظریہ کے تحت امام بن حزم قیاس یا مصالح مرسلہ کو بطور شرعی اصول کے تسلیم نہیں کرتے تھے اور نص کو اُس کے مورد تک ہی محدود رکھتے تھے مثلا: حدیث میں آیا ہے کہ انسان اگر کھڑے پانی میں پیشاب کر دے جبکہ پانی زیادہ نہ ہو تو پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔یہ بات انسانی پیشاب تک ہی محدود ہوگی کسی اور جانور حتی کہ کتے اور سور کے پیشاب سے بھی پانی ناپاک نہ ہوگا اور اگر کہا جائے کہ پیشاب اور سوریعنی جو ٹھا تو جانور کے گوشت کے تابع ہے جن جانوروں کا گوشت حرام ہے ان کا پیشاب اور سوربھی نجس اور پلید ہوگا تو وہ۔قد احرق امير الاندلس كتب ابن حزم۔۔۔۔۔ويظهران الاحراق لم يكن لكل الكتب لأن تلاميذه يكتبونها و ينسخونها في كل مكان (محاضرات صفحه ۳۹۵)