تاریخ افکار اسلامی — Page 180
تاریخ افکا را سلامی ١٨٠ وہ جزالت عبارت کے ساتھ ساتھ مسائل کے استنباط میں بھی اس مہارت سے خوب کام لیتے۔امام ابن القیم صوفی مزاج ، ٹھنڈی اور بڑی میٹھی طبیعت کے مالک تھے۔تقریر وتحریرہ دونوں میں اس کا اثر ملتا ہے۔اس کے بر عکس آپ کے اُستاد امام ابن تیمیہ بہت تیز طبیعت تھے۔مخالفین کے بارہ میں تنقید کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کرنے میں بڑے جری تھے۔یہی وجہ ہے کہ استاد کے مخالف شاگرد کی نسبت زیادہ تھے تاہم اپنی جگہ شاگرد کی بھی سخت مخالفت ہوئی لیکن آپ کسی قسم کی مخالفت کی پروا کئے بغیر راہ حق پر رواں دواں رہے اور قید و بند کی ذرا بھی پروا نہیں کی۔آپ کے بے شمار شاگر د تھے جن میں سے ابن کثیر صاحب "البدايه والنهاية" اور ابن رجب صاحب طبقات الحنابلہ " بہت زیا دہ مشہور ہیں۔امام ابن قیم اور عبادت امام ابن القیم کثرت مشاغل کے باوجود بڑے عبادت گزار تھے۔کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرتے۔تہجد اور نوافل بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہے امام ابن قیم کا مسلک امام ابن القیم اگر چہ مسل کا حنبلی تھے لیکن دلائل کی بنا پر اگر ضروری سمجھتے تو مخالفت بھی کرتے۔کئی فقہی مسائل میں آپ نے اختلاف کیا۔آپ کی رائے تھی کہ گواہ کا معتبر اور ثقہ ہونا اصل ہے اس لئے اگر یہ شرط موجود ہو تو والد بیٹے کے حق میں اور بیٹا والد کے حق میں گواہی دے سکتا ہے اور اور یہ گواہی مقبول ہونی چاہیے۔جبکہ فضیلی ایسی گواہی کو درست تسلیم نہیں کرتے۔بیک وقت دی ہوئی تین طلاق کو آپ ایک رجعی طلاق قرار دیتے تھے۔آپ کا مسلک تھا علامہ ابن الحجر اور علامہ شوکانی نے ان کے بارہ میں لکھا ہے۔ما راينا اوسع منه علما و لا اعرف بمعاني القرآن والحديث والسنة و حقائق الايمان منه وقال معاصره برهان الدين الزرعى ما تحت اديم السماء اوسع علما منه ابن القيم الجوزية صفحه ٤٣٠٤١ بحواله الدرر الكامنة جلد ۲ صفحه ۲۱ - البدر الطالع جلد ۲ صفحه ۱۴۳ شذرات الذهب جلد ۲ صفحه ۱۶۹) يقول تلميذه ابن كثير - كان ملازما للاشتغال ليلا ونهارًا كثير الصلوة والتلاوة - حسن الخلق كثير التودد لا يحسد ولا يحقد (ابن القيم الجوزية صفحه (۴۹)