تاریخ افکار اسلامی — Page 179
تاریخ افکا را سلامی 129 حضرت امام ابن القيم شمس الدین محمد بن ابي بكر المعروف بابن القيم الجوزیہ ۶۹ ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد دمشق کے مشہور مدرسہ الجوزیہ کے قیم اور نگران تھے جس کی وجہ سے آپ نے ابن القیم الجوزیہ کے نام سے شہرت پائی۔آپ کی وفات ۷۵۱ ھ میں ہوئی۔اس لحاظ سے آپ کی عمر ساٹھ سال کے قریب بنتی ہے۔یہ زمانہ مصر کے ممالیک کی حکومت کا تھا جو ۹۲۲ ھ یعنی عثمانی ترکوں کی فتح مصر تک ممتد ہے۔اسی زمانہ میں علامہ ابن حجر عسقلانی بھی ہوئے ہیں جو اپنی کثرت تصانیف کی وجہ سے مشہور زمانہ ہیں۔حفظ قرآن کریم کے بعد ابن القیم نے علوم مروجہ کی تحصیل متعد واساتذہ سے کی جن میں سے سب سے زیادہ اثر آپ نے امام ابن تیمیہ سے لیا۔ابن القیم اپنی مختلف کتابوں میں اپنے اس استاد کا ذکر بڑے احترام اور ادب سے کرتے ہیں۔آپ نے اپنے استاد کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں بھی اُٹھا ئیں چنانچہ ان کی وفات کے وقت آپ بھی قلعہ دمشق میں قید تھے۔امام ابن القيم تنبلی فقیہ تھے اس لئے علمی مہارت کے ساتھ ساتھ دینیات میں کتاب وسنت سے باہر جانا بالکل گوارا نہ تھا۔فتویٰ دیتے وقت ہمیشہ اپنے استاد کی اس نصیحت کو مدنظر رکھتے کہ إِيَّاكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ فِي مَسْتَلَةٍ لَيْسَ لَكَ فِيْهَا إِمَامٌ يعنی نص کے بغیر کسی مسئلہ کے بارہ میں محض اپنی رائے کی بنا پر گفتگو کرنے سے ہمیشہ بچتے رہو۔نص پر اعتما دحد بیث کو مقدم کرنا۔صرف مجبوری کی صورت میں قیاس سے کام لینا خیلی مذہب کی خاص خصوصیت ہے اور امام ابن القیم اس خصوصیت کا نمونہ تھے یہی وجہ ہے کہ ابن تیمیہ اور ابن القیم اور ان کے لائق شاگردوں کی وجہ سے اس زمانہ یعنی آٹھویں صدی میں شام کے علاقہ میں حنبلیوں کا خاصہ زور تھا۔دولت عثمانیہ ترکیہ کے زمانہ میں کہیں جا کر یہ زور ختم ہوا۔ابتدائے جوانی میں ہی جبکہ آپ کے کئی اساتذہ ابھی زندہ تھے جن میں ابن تیمیہ بھی شامل تھے امام ابن القیم نے درس و تدریس اور افتاء کا فریضہ سر انجام دینا شروع کر دیا تھا۔آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عربی زبان اور اُس کے قواعد میں بھی بڑے ماہر تھے