تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 147 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 147

تاریخ افکا را سلامی ۱۴۷ ٣۔حضرت امام شافعی محمد بن ادریس الشَّافِعِي الْمُطَّلِبِى فلسطین میں ۱۵۰ ھ میں پیدا ہوئے۔یہ وہی سال ہے جس میں حضرت امام ابو حنیفہ فوت ہوئے تھے گویا جس سال ایک امام فقہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اسی سال ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس کے مقدر میں کچھ سال بعد امام فقہ بنا لکھا تھا۔لے آپ کے والد ایک ایسے فوجی دستہ میں ملازم تھے جو غزہ کی فوجی چھاؤنی میں مقیم تھا۔والد کا گزار معمولی تھا۔ان کا اصل وطن مکہ تھا جبکہ آپ کی والدہ یمن کے اڈ دی قبیلہ کی خاتون تھیں ہے شافعی ابھی بچہ ہی تھے کہ والد کا غزہ میں انتقال ہو گیا اور آپ کی والدہ بعض مصالح کے پیش نظر آپ کو مکہ مکرمہ لے آئیں تا کہ بچہ اپنے قبیلہ کے لوگوں میں بہتر نشو ونما پا سکے۔اس وقت آپ کی عمر دس سال کے قریب تھی سے اور قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔آپ کا خاندانی تعلق قریش کے مشہور قبیلہ بنو مطلب سے تھائے اور شافع آپ کے اجداد میں سے ایک بزرگ کا نام تھا جس کی طرف یہ خاندان منسوب تھا اور شافعی کہلاتا تھا۔مکہ مکرمہ میں آنے کے بعد شافعی نے وہاں اساتذہ سے پڑھنا شروع کیا اور جب کچھ پڑھ لکھ گئے تو مکہ کے مشہور محدث سفیان بن ٹھینہ اور مسلم بن خالد زنجی سے علم حدیث پڑھا۔اسی دوران میں آپ مکہ کے قرب وجوار میں لینے والے ہذیل قبیلہ کے ہاں جانے لگے تا کہ فصیح عربی میں مہارت حاصل کر سکیں۔بنو ہذیل پہاڑوں میں رہتے تھے۔فصاحت زبان اور شعر کوئی کے لحاظ سے L قيل توفى اما م وولد امام لئلا يخلو وجه الارض من امام (الامام الشافعی صفحه ۲۷) ایک روایت کے مطابق آپ کی والدہ قرشیہ ہاشمیہ تھیں۔ایک روایت کے مطابق عمر دو سال تھی۔عبد مناف کے چار بیٹے تھے۔مطلب ، ہاشم عبد الشمس اور نوفل، ہاشم کی اولاد میں سے آنحضرت ﷺ ہیں اور مطلب کی اولاد میں سے امام شافعی تھے۔عبدالشمس بنو امیہ کے جدا مجد ہیں اور نوفل جبیر بن مطعم کے۔ہائم کے بیٹے شیبہ (جد حضور) ابھی چھوٹے ہی تھے کہ ہاشم کا انتقال ہو گیا اور شیعہ کو مطلب نے پالا جس کی وجہ سے شیبہ عبدالمطلب کے نام سے مشہور سے" ہو گئے تھے۔بنو مطلب ہمیشہ بنو ہاشم کے ساتھ رہے جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو عروج بخشا تو آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ذوی القربی قرار دیا بنو امیہ اور بنو نوفل نے بھی ذوی القربی میں شمار کئے جانے کا مطالبہ کیا کیونکہ رشتہ برابر کا تھا لیکن آپ نے فرمایا انهم لم يفارقونا في جاهلية ولا فى اسلام، انما بنو هاشم و بنو مطلب شىء واحد ( محاضرات صفحه ۲۴۶)