تاریخ افکار اسلامی — Page 128
تاریخ افکار را سلامی IPA انہوں نے کہا کہ پہلا سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے بہت شراب پی لی اور مد ہوشی کی حالت میں ہی مر گیا۔ایک عورت نے زنا کیا حاملہ ہوئی اور زچگی کے دوران ہی مرگئی بتاؤ کیا یہ دونوں مسلمان ہیں؟ آپ نے پوچھا کیا وہ یہودی تھے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔کیا وہ عیسائی تھے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔کیا وہ مجوسی تھے ؟ انہوں نے کہا مجوسی بھی نہیں تھے۔آپ نے پوچھا پھر وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا وہ مسلمان تھے۔آپ نے یہ جستہ کہا قد أجبتم جواب تو تم نے خود ہی دے دیا یعنی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اُسے ہم بھی مسلمان ہی کہیں گے وہ شرمندہ ہو کر کہنے لگے اچھا یہ بتاؤ کہ یہ جنتی ہیں یا دوزخی۔آپ نے کہا میرا جواب وہی ہے جو ابرا ہیم اور مسیح کا تھا۔ابراہیم نے کہا تھا فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَ مَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيم اور مسیح نے کہا تھا ان تُعَلَّبُهُمْ فَإِنَّهُمُ عِبَادَكَ وَإِنْ تَغْفِرْلَهُمْ فَإِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - یہ جواب سن کر وہ شرمندہ واپس چلے گئے۔ایک دفعہ امام ابو حنیفہ ابو جعفر منصور کے دربار میں گئے وہاں منصور کا ایک درباری سردار ابو العباس طوسی بھی بیٹھا تھا جو ابو حنیفہ سے دشمنی رکھتا تھا اُسے شرارت سوجھی اور دل میں کہا آج اسے سزا دلوا کر چھوڑوں گا چنانچہ اس نے منصور کے سامنے امام ابوحنیفہ سے سوال کیا کہ امیر المومنین ایک شخص کو بلاتے ہیں اور اُسے فرماتے ہیں فلاں شخص کی گردن اڑا دو جبکہ اسے معلوم ہی نہیں کہ اس شخص کا قصور کیا ہے کیا وہ حکم کی تعمیل کرے۔امام صاحب اس کی شرارت کو سمجھ گئے اور اُس سے پوچھا آپ کے نزدیک امیر المومنین انصاف اور حق کی بنا پر حکم دیتے ہیں یا نا حق بلا وجہ دوسروں کی گردنیں اُڑانے کا شوق رکھتے ہیں اس مقابل سوال پر ابوالعباس طوسی گھبرا گیا اور فورا اُس کے منہ سے نکلا امیر المومنین کا حکم حق پر مینی ہوا کرتا ہے اس پر آپ نے کہا کہ درست تعلیم کی تعمیل ہونی چاہیے۔کے ↓ ایک شخص نے امام ابو حنیفہ کے حق میں وصیت کی جبکہ آپ موجود نہ تھے۔حسب قاعدہ وفات سورة ابراهيم: ۳۸ کے سورة المائده : ۱۱۹ فَكُسُوا رُؤُوسَهُمْ۔وَانْصَرَفُوا۔ابو حنيفه صفحه ۷۴ ابو حنیفه صفحه ۲۳۲