تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 105 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 105

1+0 اجازت دی گئی تا کہ لوگ تنگی محسوس نہ کریں۔یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ عرف کے بدلنے سے بالعموم یہ احکام غیر منصوص بدل جاتے ہیں۔ننگے سر پھر نا اہل مشرق کے ہاں معیوب بات ہے اور اس عیب کی وجہ سے بعض اوقات گواہ کی عدالت اور ثقاہت پر اثر پڑ سکتا ہے لیکن مغرب کے ممالک میں اس کا رواج ہے اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا اس لیے مغرب کے رہنے والوں میں اسے بطور جمرح و تنقید استعمال نہیں کیا جا سکے گا لیے امام مالک اور مدینہ کے بعض قضاۃ اہل مدینہ کے عرف کو خاص اہمیت دیتے تھے اور بعض اوقات اس کی وجہ سے خبر واحد کور د کر دیتے تھے۔اور جب کسی مدنی قاضی کے سامنے روایت پیش کی جاتی کہ حدیث میں ایسا آیا ہے تو وہ یہ کہہ کر اس روایت کو رد کر دیا کرتے تھے کہ اہل مدینہ کا عرف اور رواج اس کے خلاف ہے۔ایک دفعہ امام مالک کے سامنے یہ ذکر ہوا کہ امام ابو حنیفہ کی رائے ہے صاع کی مقدار آٹھ رطل ہے۔امام مالک نے مدینہ کے مختلف گھروں سے صاع منگوائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے تھے جب اندازہ کیا گیا تو وہ ۱/۳-۵ رطل کے تھے۔اس پر آپ نے فرمایا جب حضور کے زمانہ کے یہ صاع اس مقدار کے ہیں اور انہی کے مطابق لوگ صدقۃ الفطر اور دوسرے واجبات مالی ادا کیا کرتے تھے تو ابو حنیفہ کی رائے کو ہم کیسے درست مان سکتے ہیں۔کے بنو امیہ کے زمانہ میں کالے رنگ کے کپڑے کا استعمال عیب سمجھا جاتا تھا۔بنو عباس برسراقتدار آئے تو انہوں نے کالی وردی اپنائی اس طرح کالے رنگ کے کپڑے کی قدرو قیمت بڑھ گئی اور اس کے دام بڑھ گئے اور قضاء یہ رنگ معیوب نہ رہا۔کے رویہ ذرائع استنباط احکام کی ایک بنیاد ” ذرائع بھی ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو ذرائع اور اسباب جلب منفعت کا باعث اور مفید ہیں وہ شرعاً مطلوب اور مقصود ہیں اور جو ذرائع اور اسباب فساد نقصان اور ضر ر کا باعث ہیں اور بدی کا ذریعہ بن سکتے ہیں وہ شرعاً ممنوع اور مردود ہیں کیونکہ مالک بن انس صفحه ۲۲۵ ۳۲ مالک بن انس صفحه ۱۷۶ و ۱۷۸ رأی صاحبا ابي حنيفة ان صبغ الثوب باللون الاسود يزيد قيمته (مالک بن انس صفحه ۲۲۵)