تاریخ افکار اسلامی — Page 90
تاریخ افکا را سلامی ذبح کرنے کے جرم میں یہ سب سزا کے مستحق ہیں۔اس طرح اس کیس میں بھی دونوں مجرم ایک سزا کے مستحق ہیں۔چنانچہ حضرت عمر نے اس کے مطابق عمل کرایا اور فرمایا کہ اگر ایک گروہ کسی قتل میں برابر کا شریک ہو تو سب کو اس کے بدل میں قتل کر دیا جائے گالے حالانکہ اس بارہ میں کوئی نص نہ تھی۔شراب پینے کے جرم میں کوئی معین سزا نہ تھی۔حضرت عمر نے صحابہ سے مشورہ لیا تو حضرت علی نے ہی مشورہ دیا کہ شرابی بہک کر دوسروں کو گالیاں دیتا ہے اور ان پر تہمت لگاتا ہے اور تہمت کے جرم کی سزا قرآن کریم میں انٹی کوڑے بیان ہوئی ہے اس لیے شرابی کو انٹی کوڑوں کی سزا دینی چاہیے۔چنانچہ صحابہ نے اس مشورہ کو قبول کیا اور اسی سزا کو امت نے اپنایا اور اس کا نام حد رکھا۔حالانکہ ایسی کوئی نص موجود نہ تھی۔کے صرف قیاس اس کی بنیا دتھا۔قیاس اصولاً ایک ظنی دلیل ہے دینی اور شرعی مسائل معلوم کرنے کے دو ذریعے ہیں ایک قطعی اور یقینی اور دوسر اظنی اور را جمع یعنی اس خیال کی بنا پر کہ شریعت کا حکم اور اللہ تعالیٰ کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے۔حقیقت اور اصلیت کیا ہے یہ اللہ جانتا ہے ہمارا مقام اس بارہ میں لا علم لنا إلا ما علمتنا کا ہے اور ہم اسی کے مکلف ہیں۔اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی نص ظاہر یا تو اتر عملی سے جو کچھ ثابت ہے وہ قطعی اور یقینی ہے اور جو کچھ اخبار احا دیا علم کے دوسرے ذرائع مثلاً قیاس اور مصالحہ مُرسلہ وغیرہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اس کا مآل ظن راجح ہے یعنی حسن ظن کی بناء پر ہم اسے صحیح سمجھتے ہیں۔ایک آدمی ہمارے علم کے مطابق سچا ہے۔نیک ہے۔اس کی یادداشت اچھی لگتی ہے اور جو خبر وہ دے رہا ہے اس کے درست اور سچے ہونے کے دوسرے قرائن بھی موجود ہیں۔اس لیے ہم اس کی بتائی ہوئی دینی خبر کو سچ ماننے کے مکلف ہوں گے کیونکہ اسی کے مطابق عالم انسانیت کا نظام چل رہا ہے کہ بالعموم ہم ایک دوسرے کی بات کا احترام کرتے ہیں اور اسے بچ مانتے ہیں۔حقیقت اور اصلیت کیا فكتب عمر الى عامله ان اقتلهما فو الله لو اشترك فيه اهل صنعاء كلهم لقتلتهم (ابوحنيفه صفحه ۱۳۸) مالک بن انس صفحه ۱۶۷ البقره : ٣٢