تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 88 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 88

تاریخ افکا را سلامی M حکم معلوم کرنے کی کوشش کرنا بڑا تخلط طریق ہے۔امام مالک بھی بالعموم قیاس کے طریق کو نا پسند کرتے تھے اور کہا کرتے کہ قیاس سے زیادہ کام لینے والا سنت وحد بیث کا تارک اور اس کی اہمیت کا منکر بن جاتا ہے ہے لیکن قیاس کے بارہ میں یہ ساری مخالفت قائلین قیاس کے نقطہ نظر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ہر فقہی مسلک کا حامل کسی نہ کسی درجہ میں قیاس سے کام لینے پر مجبور ہوا ہے جیسا کہ آئندہ صفحات کے مطالعہ سے واضح ہوگا۔قیاس رائے قائم کرنے اور اس کی صحت پر کھنے کا ایک ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرمانا ہے۔لَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ نَعْلِمهُ الَّذِينَ يَسْتَطونَ مِنْهُمْ کے یعنی جو اہم بات ان کے علم میں آئی اگر وہ اس کو ادھر ( ادھر پھیلانے کی بجائے ) رسول تک پہنچاتے یا اپنے ان حکام تک پہنچاتے جو بات کی اصلیت معلوم کرنے اور اس کی تہ تک پہنچنے کا ملکہ رکھتے ہیں تو بہتر ہوتا۔یہ آیت کریمہ بتاتی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بات کی گہرائی میں جا کر اصل حقیقت اور مسیح مطلب پا لیتے ہیں اور معاملات کا صحیح رخ متعین کر سکتے ہیں اور ان کو مسائل سلجھانے کا خاص ملکہ عطا کیا جاتا ہے۔حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو امور مملکت کے سلجھانے اور قضائی فیصلوں کو صحیح رخ دینے کے بارہ میں جو خط لکھا اس کے چند الفاظ یہ ہیں۔الفهم القَهُم فِيْمَا يَخْتَلِجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُكَ فِي الكِتابِ أوِ السُّنَّةِ أعْرِفِ الامثال والاشتباه ثُمَّ فِس الأمُورَ عِندَ ذلِكَ " یعنی مسائل پیش آمدہ کے بارہ میں خوب سمجھ سوچ سے کام لو اور جن مسائل کے بارہ میں کتاب وسنت سے کوئی وضاحت نہ ملے ان کے لیے مثالیں اور نظائر تلاش کرو اور ان مسائل کو اُن پر قیاس کرو۔قال احمد ان القياس في الدين باطل والراى مثله بل هو ابطل من القياس واصحاب الراي والقياس مبتدعة ضلال الامام احمد صفحه ۳۳۰ - بحواله طبقات الحنابلة جلد ۱ صفحه ۳۱ ملخصاً) مالک بن انس صفحه ۲۱۴، مزید تفصیل کے لیے دیکھیں ابو حنیفه صفحه ۱۸۰۰۱۷۳ محاضرات صفحه ۵۸۳ النساء: ۸۴ کے سنن دار قطنى كتاب الاقضيه والاحكام - ابوحنیفه صفحه ۱۴۷