تاریخ افکار اسلامی — Page 70
تاریخ افکار را سلامی ۱۰۔بعض اوقات علاقائی عقیدت یا اپنے اپنے اساتذہ سے خصوصی تعلق بھی روایت حدیث ن کی ترجیح کا باعث بن جاتا ہے حالانکہ خودحد یث کے راویوں کے ثقہ ہونے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا۔مثلاً ایک دفعہ امام ابو حنیفہ سے امام اوزاعی نے پوچھا کہ تم لوگ رکوع میں جاتے وقت اور اس سے اٹھتے وقت اور نماز کے دوسرے موقعوں پر رفع یدین کیوں نہیں کرتے ؟ یعنی ہاتھ کیوں نہیں اٹھاتے۔امام ابو حنیفہ نے جواب دیا کہ اس بارہ میں کوئی صحیح حدیث ہمیں نہیں ملی۔امام اوزاعی نے جواب دیا حدیث تو ہے زہری سالم سے اور وہ اپنے باپ عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔امام ابو حنیفہ نے جواب میں کہا ہمارے استاد حماد نے ابرا ہیم شفی سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے استاد علقمہ سے سنا کہ عبد اللہ بن مسعود بیان کیا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے ، اس کے بعد کسی جگہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔امام اوزاعی نے اس پر کہا۔زہری، سالم اور عبد اللہ بن عمر جیسے مانے ہوئے مدینہ کے راویوں کے مقابلہ میں آپ کس کا نام لے رہے ہیں۔امام ابو حنیفہ نے جواب دیا حماد، زہری سے زیادہ فقیہ ہیں اور ابراہیم ، سالم سے زیادہ سمجھدار ہیں۔رہے عبد اللہ بن مسعود تو بھلا ان کا مقابلہ کون کر سکتا ہے؟ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پرانے رفیق ، ہمیشہ ساتھ رہنے والے سر بر آوردہ صحابی ہیں۔یہ جواب سن کر امام اوزاعی خاموش ہو گئے۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ فقہ کے دونوں اماموں میں سے کسی کو حدیث کے کسی راوی کی صداقت پر کوئی اعتراض نہیں تھا دونوں کے نزدیک راوی ثقہ اور معتبر ہیں لیکن تفقہ میں تفاوت اور اپنی اپنی واقفیت اور عقیدت کے حوالہ سے ہر ایک اپنی بات پر زور دے رہا ہے۔بعض اوقات ایک مجتہد اور امام فقہ نے ایسے وقت میں اپنی کسی رائے کا اظہار کیا جبکہ اسے کسی حدیث کا علم نہیں تھا اور دوسرے عالم کے علم میں یہ حدیث آئی تو اس وجہ سے دونوں کی را ئیں مختلف ہو گئیں ایک کی رائے اپنے اجتہاد کی بنا پر تھی اور دوسرے کی مروی حد میث کی بنا پر۔پہلے کو اصلاح کا موقع نہ مل سکا کیونکہ وہ ایسے علم سے پہلے فوت ہو گیا تھا۔اس طرح قبول حدیث ا کے بارے میں اس امام کے مقلدین تردد میں پڑ گئے۔