تاریخ افکار اسلامی — Page 63
تاریخ افکا را سلامی حضرت جائز کی ۱۵۴۰، حضرت ابو سعید خدری کی ۱۱۷۰، حضرت عبد اللہ بن مسعود کی ۸۰۰، حضرت عبد اللہ بن عمرو کی ۷۰۰ ، حضرت علی کی ۵۸۶ ، حضرت عمر کی ۵۳۷، حضرت ابو ذر کی ۲۸۱ اور حضرت ابو بکر کی روایات کی کل تعدا د ۱۳۲ ہے۔روایت حدیث کے رواج میں تدریج عراق میں رہنے والے صحابہ اور تابعین سے نسبتاً کم احادیث مروی ہیں نے یہی وجہ ہے کہ قریباً ۱۳۰ ھ تک اہل عراق کے ہاں روایت حدیث کا چرچا بہت کم رہا اور کافی عرصہ بعد اس کے فروغ کا ذوق وشوق بڑھاتے اور حنفی فقہاء نے بھی روایت حد بیث کی طرف زیادہ توجہ مبذول کی چنانچہ عباسی خلیفہ المهدی (متوفی ۱۲۹ھ ) کے کہنے پر حضرت امام محمد بن حسن الشیبانی امام مالک سے حدیث پڑھنے مدینہ منورہ گئے اور وہاں تین سال رہ کر ان سے موطا پڑھی اور مدینہ کے دوسرے اہل علم سے بھی حدیث کے بارہ میں معلومات حاصل کیں ہے اس کے بر خلاف مدینہ منورہ کے صاحب علم صحابہ اور ان کے شاگر دروایت احادیث میں بڑے نمایاں تھے کیونکہ مدینہ منورہ احادیث اور تاریخی روایات کا مرکز تھا اور اسی تعلق کی وجہ سے روایت حدیث میں حضرت امام مالک کا ذوق اور رحجان قابل فہم ہے اور اس علم کا وہ خاص شوق بھی رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود جب انہوں نے موطا کی تدوین کا ارادہ کیا تو ۱۷۹ ھ یعنی اپنی وفات ستک وہ اس میں کل ۷۲۰ اروایات شامل کر سکے جن میں سے پانچ سو کے قریب مرفوع احادیث ہیں علوم الحديث ومصطلحه لصبحی الصالح “ صفحه ۳۵۹ و مالک بن انس صفحه ۱۷۱ امرهم عمر ان لا يحدثوا الناس وكان الشعبي يقول كره الاولون الصالحون الاكثار من الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم تذكرة الحفاظ للذهبي صفحه ۷ - ابو حنیفه صفحه ۱۵۸) ان تدوين السنن حدّها البعض بسنة ثلاثة واربعين ومائة۔۔۔۔۔وكان ابو حنيفة لا يطمئن الى احاديث الاحاد ابو حنيفه صفحه ۱۳۷، ۱۶۴۱۵۸ مالک بن انس صفحه ۱۷۳۰۱۰۹) كان محمد وابو يوسف قد مالا بعد وفاة استاذهما بعض الميل الى التخفيف من التشدّد في تلقى السنن والاحاديث۔۔۔و اما محمد فاقام على باب مالک ثلاث سنين في حكم المهدى (ابو حنيفه صفحه ۱۶۹۰۱۵۸ - الامام الشافعي صفحه (۸۰)