تاریخ افکار اسلامی — Page 53
میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔لے ۵۳ اس تربیت اور ہدایت کا اثر تھا کہ اکثر صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بات کرنے سے بالعموم بیچتے تھے۔ہے عراق میں جو صحابہ آکر بس گئے تھے وہ عام طور پر قلت روایت کے عادی تھے۔بعد میں حضرت امام ابو حنیفہ نے اس عادت کو اپنایا۔آپ سے نسبتا بہت کم احادیث مروی ہیں۔دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ تاریخ کے انضباط سے مفر نہیں۔انسان طبعا اس کا عادی ہے اور اپنے ماضی سے کٹ نہیں سکتا نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی دینی حیثیت بھی مسلم ہے اس لیے روایت حدیث کے جذ بہ پر بند لگانا ناممکن تھا اس رجحان کو نہ روکا جا سکتا تھا اور نہ یہ رک سکا۔اس لیے جب یہ دروازہ پوری طرح کھلا تو صحیح اور مستند احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف اور موضوع احادیث بھی عام ہونے لگیں۔صالح ذہن کے ساتھ کچھ ذہن کے حامل عناصر بھی میدان میں اتر آئے اور جھوٹی احادیث کا ایک کونہ سیلاب آگیا۔کہا جاتا ہے کہ خوارج کے کے سوا ہر فرقہ کے سج ذہن افراد نے جی بھر کے کذب علی الرسول کے جرم کا ارتکاب کیا اور خوب خوب احادیث وضع کیں گے وضع احادیث کے کئی اسباب گنوائے گئے ہیں ان میں سے مندرجہ ذیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ا۔اسلام کے دشمن زنا وقہ جو دل میں کفر چھپائے رکھتے اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے بظاہر مسلمان ہو گئے تھے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو بد نام کرنے یا دین کے استخفاف کی غرض سے حدیثیں وضع کیں۔ھے انى لا أُلبس كتاب الله بشيء فمنع عمر تدوين الحديث مخافة ان يخلط القرآن بشيء وكان العرب بالقرآن حديث عهد۔مالک بن انس صفحه ۲۶، ۱۸۱) ابو حنیفه صفحه ۱۶۱ وكان الصحابة لا يذكرون احاديث رسول الله الا مقلين (ابو حنيفه صفحه (۱۶۱) کے لم يثبت على الخوارج رذيلة الكذب على الرسول - الامام الشافعی صفحه (۲۱۴) إن الكلب على الرسول قد كثر في عهد التابعين بسبب تكون الفرق۔(محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية ه اعترف ابن ابی العوجاء و هو مُقيم للقتل المندقة أَنَّهُ وَضَعَ أَرْبَعَةَ الا في حديث يحرم فيها الحلال ويحل الحرام ( الامام الشافعی صفحه ۲۱۳)