تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 47 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 47

ابن ابی ذذیب نے جواب دیا جانتا ہوں اور سامنے دیکھ رہا ہوں کہ تلوار میری گردن اڑانے کے لئے بے چین ہے اور موت نے تو آنا ہے جلد آئے تو بہتر ہے۔عَاجِلُهُ خَيْرٌ مِّنْ آجِلِهِ۔اس پر منصور کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور ہم سب بخیریت واپس آگئے۔دوسری صبح منصور نے اپنے ایک افسر کو دیناروں سے بھری ہوئی تین تھیلیاں دیں اور کہا کل جو عالم یہاں آئے تھے ان کے پاس جاؤ اور ہر ایک کو ایک ایک تھیلی دو۔اگر ابن ابی ذویب دینار کی تحصیلی قبول کرلے تو اس کا سر کاٹ کر میرے پاس لے آؤ اور اگر نہ لے تو پھر اسے کچھ نہ کہو۔ابن سمعان اگر دینا ر کی تھیلی لے لے تو اسے کچھ نہ کہو اور اگر نہ لے تو اس کی گردن اڑا دو۔رہا ما لک وہ لے یا نہ لے اس سے تعرض نہ کرو۔چنانچہ ابن ابی ذذیب نے تحصیلی قبول نہ کی۔ابن سمعان نے قبول کر لی اور کہا کہ مجھے بھی رقم کی ضرورت تھی چنانچہ میں نے رکھ لی۔بہر حال وہ دونوں علماء منصور کے امتحان میں کامیاب رہے اور جو کچھ ان کے دل میں تھا وہی ان سے ظاہر ہوا۔اس طرح تینوں کی جانیں بچ گئیں لے انہی ابن ابی ذویب کا واقعہ ہے کہ یہ منصور کے دربار میں بیٹھے تھے۔کچھ لوگوں نے حاکم مدینہ حسن بن زید کی شکایت کی کہ بہت ظلم کرتا ہے۔حسن بھی وہاں موجود تھا۔منصور نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے عرض کیا امیر المومنین آپ ابن ابی ذویب سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔ابن ابی ذویب نے پوچھنے پر بتایا کہ یہ لوگ بڑے شریر ہیں دوسروں کی بے عزتی کرنے سے ذرا بھی نہیں جھجکتے۔ان لوگوں نے جواباً کہا کہ آپ حسن کے بارہ میں انہی سے پوچھ لیں۔منصور کے پوچھنے پر ابن ابی ڈویب نے کہا حسن بھی کچھ کم ظالم نہیں۔عدل کے خلاف کرنے میں شیر ہے۔حسن نے یہ سن کر عرض کیا امیر المومنین اپنے بارہ میں بھی ان سے پوچھ لیں کہ یہ آپ کے بارہ میں کیا رائے رکھتے ہیں۔(مطلب یہ کہ تاریک پہلو پر ان کی نظر کی رہتی ہے ) منصور نے اصرار کیا کہ ضرور بتائیے اس پر انہوں نے کہا اللہ نے جو امانت آپ کے سپرد کی ہے اس کا حق ادا نہیں کرتے اور لوگوں کے اموال میں نا جائز تصرف کرتے ہیں۔پاس بیٹھے لوگوں نے سمجھا اب اس کی خیر نہیں ابھی اس کی گردن اڑی لیکن ایسا نہ ہوا۔منصور اٹھا ابن ابی ذذیب کی پیچھے سے گردن پکڑی اور کہا اگر میں اپنا رعب قائم نہ رکھوں تو عجمی لوگ آپ سب کو چیر پھاڑ دیں۔یہ تم عربوں کی تاک مالک بن انس صفحه ۲۴۹