تاریخ افکار اسلامی — Page 44
تاریخ افکا را سلامی ۴۴ ہو جاتی ہے۔اس لئے عام ملکی قانون میں حکام وقت کی اطاعت کرنی چاہیے۔اسی طرح یہ بھی جائز سمجھا گیا کہ عام فقہاء اور علماء ایسی حکومت کے مناصب قبول کر سکتے ہیں تا کہ وہ عوام کی مناسب مدد کر سکیں اور ممکن حد تک انہیں انصاف میسر آسکے ورنہ تو وہ مناصب لالچی، ظالم اور خدا ناترس امراء قبول کر لیں گے جس کی وجہ سے عوام کے حقوق اور زیادہ تلف ہوں گے اور ان کی تباہی اور بربادی میں مزید اضافہ ہوگا۔چنانچہ امام ابو حنیفہ علیہ الرحمتہ اگر چہ بنوامیہ اور بنو عباس کی حکومت کو پسند نہیں کرتے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ علوی خاندان کے متقی اور بزرگ افراد کو یہ منصب ملے لیکن اس کے باوجود آپ نے کسی شورش میں عملی حصہ نہیں لیا۔حکومت کے مناصب کو بوجوہ خود تو قبول نہیں کیا لیکن ان علماء اور فقہاء کی کبھی تنقیص بھی نہیں کی جو حکومت کے مختلف مناصب پر فائز تھے۔اس کے ساتھ ہی اپنے شاگردوں کو اس غرض کے لئے تیار کیا کہ وہ حکومت کی مختلف اہم ذمہ واریاں قبول کر سکیں۔یہی حال حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کا تھا۔ان بزرگوں نے کبھی کسی شورش میں عملی حصہ نہیں لیا۔اگر چہ حکومت کی کسی ذمہ داری کو بھی قبول نہیں کیا لیکن حکومتی مناصب قبول کرنے کے خلاف کوئی فتوی بھی نہیں دیا۔ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عمر سے سوال کیا گیا کہ فتنہ پا کرنے والوں سے آپ لڑتے کیوں نہیں حالانکہ خدا کا حکم ہے کہ فتنہ کی روک تھام کے لئے تم جنگ کرو میں آپ نے جواب دیا ہم نے فتنہ مٹانے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے بہت سی جنگیں لڑیں لیکن تم فتنہ پیدا کرنے کے لئے اور اس کو ہوا دینے کے لئے شورش بپا کئے ہوئے ہو اور اس بات کے لئے کوشاں ہو کہ اللہ کے دین کی بجائے کسی اور دین کسی اور کی اطاعت کو فروغ ملے ہے روایات میں آتا ہے کہ حضرت امام مالک خلفاء عباسیہ اور ان کے مقرر کردہ حکام کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی نے اعتراض کیا کہ آپ خلفاء اور امراء کے پاس آتے جاتے ہیں ل ان رأى اكثر العلماء وعلى رأسهم مالك ان الحاكم الظالم لا يصح الخروج عليه ولكن يسعى فى تغييره۔۔۔من غير فتنة و لا انتقاض لأنه فى ضَجّة الفتن لا يسمع قول الحق (نفس المصدر) وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِية (البقرة : ۱۹۴ و الانقال : ٤٠) وَأَنتُمْ تُرِيدُونَ أَن يَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ الله ( مالک بن انس صفحه ۲۴۵)