تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page vi of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page vi

والے ان کا حوالہ دیتے وقت ان کو اسلامی قرار دیں۔“ (اردوترجمہ الہام، عقل، علم اور سچائی صفحہ ۱۷، ۱۸) فکری صحت مند ارتقاء اور ذہن کی مثبت تبدیلی کے لئے اعلیٰ اخلاق ، عمدہ نمونہ اور مذہبی اصول سے گہرا رشتہ اور تعلق ضروری ہوتا ہے۔غلو ، شدت ، طاقت اور قرآن وسنت سے کمزور رشتہ کے باعث جب عملی اور نظری معاملات در پیش ہوئے اور اختلاف سامنے آئے تو ضد اور تعصب کی راہ سے اپنے اپنے موقف پر قائم رہے۔بعض اوقات عدل اور انصاف کا دامن چھوٹ گیا اور یہ بالعموم تفرقہ بازی اور فرقہ پرستی کے فروغ کا سبب بنا اور امت مسلمہ کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔سلسلہ احمدیہ کے ممتاز اور متبحر عالم مفتی سلسلہ محترم ملک سیف الرحمن صاحب نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور اس کا حق ادا کیا ہے۔آپ نے اپنی اس تصنیف معیف میں مختلف فرقوں کا نظریاتی جائزہ پیش کرتے ہوئے جس اصول کو پیش نظر رکھا ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے قمطراز ہیں۔مختلف فرقوں کے نظریات کا تاریخی جائزہ پیش کرنے سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اس بات کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ آئندہ صفحات میں جو کچھ کسی فرقہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ حرف بحرف صحیح ہو اور کسی جگہ بھی تعصب یا شنید یا تساہل سے کام نہ لیا جائے۔ہر فرقہ کے بارہ میں وہی کچھ لکھا جائے جسے وہ فرقہ مانتا ہے لیکن تاریخی حقیقت کے لحاظ سے یہ حتمی دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ کوشش پوری طرح کامیاب بھی رہی ہے کیونکہ تاریخ مختلف ادوار میں سے گزرنے اور گردو پیش سے متاثر ہونے کی وجہ سے بڑی حد تک حجاب اکبر بھی ثابت ہوتی ہے اس لئے کسی حقیقت کے کئی پہلوؤں کا تشنہء وضاحت رہ جانا عین ممکن ہے اور کئی واقعات کی اصلیت سیاق وسباق سے کٹ جانے کی وجہ سے مشتبہ ہو سکتی ہے۔بہر حال یہ نظریاتی جائزہ اس حسن ظن کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے کہ جن سابقہ بزرگوں نے اس موضوع پر لکھا وہ اپنی جلالت شان اور عظمت علم کے لحاظ سے ہر قسم کے