تاریخ افکار اسلامی — Page 24
تاریخ افکا را سلامی ۲۴ اس جیسی فصیح و بلیغ عبارت مرتب نہیں کر سکتا جبکہ نظام معتزلی کا کہنا ہے کہ " لَا إِعْجَارُ فِي نَظم القُرْآن" اہل السنت کے نزدیک انسان اور حیوان دونوں کا حشر ہوگا جبکہ بعض دوسرے فرقوں کی رائے ہے کہ صرف انسانوں کا حشر ہوگا۔حیوانات دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے۔اہل السنت کے نزدیک جنت اور دوزخ دونوں مخلوق لیکن ابدی ہیں کبھی فنا نہ ہوں گی جبکہ بعض کہتے ہیں کہ دوزخ فنا ہو جائے گی اور وہ سب لوگ جو دوزخ میں داخل ہوں گے۔وہ سزا بھگت کر اور اصلاح پا کر دوزخ سے نکل آئیں گے۔جهمیه کے نزدیک جنت اور دوزخ دونوں فانی ہیں ایک وقت آئے گا کہ ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔خوارج کے نزدیک گنہگار مسلمان بھی کفار کے ساتھ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔لے اہل السنت والجماعت کی بعض ضمنی شاخیں بعض نظریاتی اور باطنی مسالک یا فقہی احکام میں معمولی اختلاف کے لحاظ اہل السنت والجماعت مختلف شاخوں اور جزبوں میں تقسیم ہیں لیکن چونکہ یہ سب مذکورہ بالا بنیادی نظریات میں متفق اور متحد الخیال ہیں۔قرآن سنت اور احادیث کو شریعت اسلامیہ کا ماخذ مانتے ہیں اور تھوڑے بہت اختلاف کے با وجود بالعموم ایک دوسرے کو کافر نہیں کہتے اور اپنے آپ کو اہل السنت والجماعت کہلانا پسند کرتے ہیں۔اس لئے اصولاً یہ سب ایک ہی فرقہ شمار ہوتے ہیں۔اگر چہ تعارف یا تخب پسندی کی وجہ سے اپنے الگ الگ نام بھی اختیار کر رکھے ہیں مثلا نظریاتی اور کلامی مسائل کے لحاظ سے کوئی اشعری ہے تو کوئی مَا تُرِیدی یا سَلْفِی تصوف اور باطنی مسالک کے لحاظ سے کوئی چشتی ہے تو کوئی سہروردی، کوئی قادری ہے تو کوئی نقشبندی۔اسی طرح فقہی مسلک کے لحاظ سے کوئی حنفی ہے تو کوئی مالکی کوئی شافعی ہے تو کوئی حنبلی۔اسی طرح کئی اور نام اور منی شاخیں ہیں جن کی تفصیل میں جانا اختصار کے منافی ہے۔تا ہم اہل السنت والجماعت کی ہر بڑی شاخ کے بارہ میں ضروری وضاحت آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے۔ل الفرق بين الفرق صفحه ۲۸۶۲۲۴۰،۲۰۰۱۹