تاریخ افکار اسلامی — Page 23
تاریخ افکار را سلامی دیتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہے۔عام صحابہ کو اس لئے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نہیں مانا اور علی کی بجائے ابو بکر کو اپنا امام مان لیا اور علی ا اس لئے کافر ہیں کہ انہیں اپنا منصوص حق لینے کے لئے لڑنا چاہیے تھا لیکن وہ نہ لڑے اور چپ کر کے بیٹھ گئے اس لئے وہ بھی کافر ہیں۔اہل السنت کے نزدیک خبر متواتر سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے اور خبر واحد ذریعہ علم خطن ہے۔لے اس لئے ایسی احادیث اور روایات سے احکام شرعیہ ثابت ہو سکتے ہیں یعنی یہ ذریعہ علم بھی مدار شریعت ہے جبکہ شیعہ کے نزدیک صرف ائمہ اہل بیت خاص طور پر حضرت امام جعفر کی مرویات حجت اور ماخذ شریعت ہیں۔بعض رافضیوں کا یہ نظریہ ہے کہ صحابہ نے چونکہ قرآن کریم میں تحریف و تبدیلی کر دی ہے اس لئے وہ بھی حجت شرعی اور ماخذ شریعت نہیں رہا۔خوارج کے نز دیک حضرت عثمان اور حضرت علی کے دور خلافت میں اکثر صحابہ کفر کے مرتکب ہوئے اس لئے ان کی مرویات حجت شرعیہ نہیں۔نظام معتزلی اجماع کے حجت اور مآخذ شریعت ہونے کا منکر تھا وہ کہتا تھا کہ لوگ غلط بات پر متفق ہو سکتے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ سب نے جھوٹ کو سچ مان لیا ہو اس لئے خبر متواتر قطعی اور یقینی علم کا ذریعہ نہیں۔سنی فرقہ کا بھی یہی نظریہ ہے۔ہے اہل السنت کے نزدیک قرآن کریم کی عبارت بلحاظ نظم و ترتیب بھی ایک معجزہ ہے کوئی دوسرا لے احادیث احاد کی چھان بین ضروی ہے۔وہ حدیث ہی قابل قبول ہوگی جو سند کے لحاظ سے قوی ہو۔درایت بھی اس کی تائید کرتی ہو اور قرآن کریم کی کسی نص کے خلاف نہ ہو۔یہ چھان بین اس لئے ضروری ہے کہ دور فتنہ میں کئی مفتری ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے حدیثیں وضع کرنے میں حد کر دی۔چنانچہ اس بارہ میں علامہ بغدادی لکھتے ہیں۔ان عبدالكريم بن ابی العوجاء كان يضع احاديث كثيرة باسانيد يغتر بها من لا معرفة له بالجرح والتعليل و رفع جزء هذا الصّال الى ابى جعفر محمد بن سلیمان عامل المنصور على الكوفة فامر بقتله فقال لن يقتلوني لقد وضعت اربعة آلاف حديث احللت بها الحرام و حرمت بها الحلال یہ تو ایک مفتری ہے جس نے اپنی شرارت کا اعتراف کیا نا معلوم کتنے دوسرے شریر ہوں گے جو گرفت میں نہ آ سکے یا اعتراف گناہ کی حمد کت نہ کر سکے۔(الفرق بين الفرق صفر ۲۰۶) الفرق بين الفرق صفحه ۲۵۳