تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 22 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 22

تاریخ افکا را سلامی ۲۲ میں ہے۔اہل السنت یہ بھی مانتے ہیں کہ بمطابق حدیث الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْش خلیفہ قریش میں سے چنا ضروری ہے۔اہل السنت یہ بھی مانتے ہیں کہ پہلے چار خلفاء امام برحق اور خلیفہ راشد تھے جبکہ شیعہ پہلے تین خلفاء کو خلیفہ راشد نہیں مانتے۔شیعوں کے نزدیک خلافت اور امامت کے لئے اہل بیت میں سے ہونا ضروری ہے نیز اس کا تعلق وراثت اور نسل سے ہے، امت کو انتخاب کا اختیار نہیں نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پہلے حضرت علی کے حق میں وصیت کی تھی کہ میرے بعد یہ میرے جانشین اور خلیفہ ہوں گے پھر ہر امام کا فرض ہے کہ وہ وفات سے پہلے اپنا جانشین مقرر کرے اور اس کے حق میں وصیت کرے گویا شیعہ کے نزدیک امامت اور خلافت موروثی اور منصوص ہے امت کو اپنا امام منتخب کرنے کا حق نہیں۔روند یہ فرقہ جو ابو ہریرہ الروندی کا پیرو تھا اور جس کا ایک داعی ابو مسلم خراسانی بھی تھا وہ حضرت عباس کو خلافت کا مستحق مارتا تھا کیونکہ وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی وارث تھے۔حضرت علی کا نمبر بعد میں آتا ہے اس لئے کہ وہ چچا زاد بھائی تھے اور عباس چا اور چا زیادہ قریبی وارث ہے۔خوارج کے نزدیک ہر وہ مسلمان جو اہلیت رکھتا ہو خواہ وہ عربی ہو یا ئیگی اسے بطور خلیفہ وامام منتخب کیا جا سکتا ہے۔اب قریباً اہل السنت بھی اسی نظریہ کو درست تسلیم کرتے ہیں اور اسی بناء پر عثمانی ترکوں کی خلافت کو برحق مانتے ہیں۔اہل السنت کے نزدیک الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عَدُولُ ایک سچائی ہے یعنی صحابہ نے پوری سچائی اور دیانتداری کے ساتھ بعد میں آنے والوں تک دین اسلام کو پہنچایا اور اس ذمہ داری کے بارہ میں وہ سب کے سب عادل اور واجب الاعتماد تھے جبکہ بعض شیعہ اور خوارج متعد دصحابہ کی تکفیر کرتے ہیں اور انہیں قابل اعتماد نہیں سمجھتے اور روافض کا کاملیہ فرقہ ان تمام صحابہ کو کافر قرار الفرق بين الفرق صفحه ۲۵ اعتقادات فرق المسليمن والمشركين صفحه ۶۳ مصنفه امام فخر الدین رازی مطبوعه مطبع دار الكتب العلمية بيروت لبنان ١٩٨٢ء