تاریخ افکار اسلامی — Page 21
تاریخ افکا را سلامی کے ساتھ قائم ہیں جیسے الْحَيُّ الْقَادِرُ الْعَالِمُ الْمُرِيدُ ، السَّمِيعُ الْبَصِيرُ وغیرہ جبکہ معتزله کہتے ہیں کہ اس کی صفات کا کوئی الگ وجود نہیں یعنی اس کی صفات مین ذات ہیں۔ج :۔وہ اسماء جو اس کے افعال سے مشتق ہوتے ہیں۔جیسے الخَالِقِ الرَّازِق ، العَادِل، الحکیم۔ان اسماء سے وہ بوقت صد در فعل موسوم اور متصف ہوتا ہے۔اہل السنت کے نزدیک نبوت آدم سے شروع ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی جبکہ خرمیہ کہتے ہیں کہ نبوت کبھی ختم نہیں ہوگی۔آئی اِنَّ الرُّسُلَ تَتَرى لَا آخِرَلَها بعض اہل السنت کے نزدیک شریعت والی نبوت ختم ہے اور غیر تشریعی نبوت جسے نبوت مبشرات بھی کہتے ہیں جاری ہے۔وَلَا آخر لها۔اہل السنت کے نزدیک انبیاء معصوم ہوتے ہیں جبکہ روافض میں سے ہشامیہ فرقہ کے نز دیک نبی معصوم نہیں ہوتا وہ گناہ اور غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے لیکن بذریعہ وحی اس کی غلطی کا مدارک ہو جاتا ہے اس کے برعکس اس کے نزدیک امام معصوم ہوتا ہے۔اہل السنت کے نزدیک انبیاء، ملائکہ اور اولیاء اور ائمہ سے افضل ہوتے ہیں جبکہ اکثر قدریہ ملائکہ کو انبیاء سے افضل تسلیم کرتے ہیں۔اور بعض روافض کرامیہ اور بعض صوفیاء ائمہ اور اولیا ء کو انبیاء سے افضل قرار دیتے ہیں۔اہل السنت کے نزدیک امامت اور خلافت کی بنیا دانتخاب اور شوری پر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نام لے کر اپنا جانشین مقرر نہیں فرمایا تھا اور نہ کسی کو نا مزد کیا تھا اور نہ کسی کے حق میں وصیت کی تھی۔اہل السنت کہتے ہیں کہ ارباب حل و عقد جنہیں جمہور مسلمان صاحب اثر و رسوخ تسلیم کرتے ہیں اور ان کے کئے کو اپنا کیا کرایا مانتے ہوں وہ انتخاب کے لئے کسی کو نامزد کر سکتے ہیں یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو منتخب کیا جائے اور اس کی بیعت کی جائے۔اسی طرح انتخاب کے لئے کوئی ساطریق اختیار کرنا یا پہلے سے تجویز رکھنا جمہور کے اختیار ل مرقات شرح مشکواة مصنفه ملا علی قاری حنفی مکی جلد ۲ صفحه ۵۶۴ تفهيمات الهيّة صفحه ۵۳ مصنفه شاه ولی الله محدث دهلوی فتوحات مكتبه جلد ۲ صفحه ۱۰۰ مصنفه شیخ ابن عربی۔