تاریخ افکار اسلامی — Page 383
تاریخ افکا را سلامی ٣٨٣ نیز حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ فرماتے ہیں: در حقیقت آدم سے لے کر اس وقت تک کبھی اس قسم کی پیشگوئی کسی نے نہیں کی اور یہ پیشگوئی چار پہلو رکھتی ہے۔ا یعنی چاند کا گر ہن اس کی متعلقہ راتوں میں سے پہلی رات میں ہوتا۔سورج کا گرہن اس کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہونا۔۔تیسرے یہ کہ رمضان کا مہینہ ہوتا۔۔۴۔چوتھے مدعی کا موجود ہونا جس کی تکذیب کی گئی ہو۔پس اگر اس پیشگوئی کی عظمت کا انکار ہے تو دنیا کی تاریخ میں سے اس کی نظیر پیش کرو اور جب تک نظیر نہیں سکے تب تک یہ پیشگوئی ان تمام پیشگوئیوں سے اول درجہ پر ہے جن کی نسبت آیت فَلا يُظهِرُ عَلَى غَيْبه أحداً کا مضمون صادق آسکتا ہے کیونکہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ آدم سے آخیر تک اس کی نظیر نہیں ملے۔چاند گرہن، سورج گرہن کے نشان ایسے نشان ہیں جو کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ جس نے سورج اور چاند اور زمین کو پیدا کیا ہے۔لگی اس کے اختیار میں ہے جیسا کہ کو حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو الہام ہوئے کہ قُلْ عِندِی شَهَادَةً مِّنَ اللهِ فَهَلْ أَنتُم مُّؤْمِنُونَ۔قُلْ عِنْدِي شَهَادَةً مِّنَ اللَّهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ - يعنی ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اُس کو مانو گے یا نہیں ؟ پھر ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو قبول کرو گے یا نہیں؟ اس نشان کے کئی ایمان افروز پہلو ہیں۔مختلف مذاہب کی کتابوں میں ان نشانوں کا ذکر پایا جانا ، قرآن مجید میں ان کا نمایاں طور پر ذکر ہونا۔حدیث شریف میں پیشگوئی کی تفصیل پائی جانا اور یہ بتایا جانا کہ ایسا نشان کسی اور مامور کے لئے کبھی ظاہر نہیں ہوا۔حضرت محمد بن علی امام با قر جو آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کا حدیث کے راوی ہونا۔تخته گواٹر و یہ روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۱۳۶