تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 19 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 19

تاریخ افکا را سلامی 19 حَيَاةً وَقُدْرَةً وَعِلْمًا وَإِرَادَةً وَ سَمْعًا وَبَصَرًا - اہل السنت کے نزدیک کلام اللہ تعالیٰ کی ازلی صفت ہے وہ حادث اور مخلوق نہیں جبکہ قدریہ معتزلہ کے نزدیک یہ حادث ہے اور اس کے کلام کرنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ اجسام میں کلام کا وصف پیدا کرتا ہے اور وہ بولنے لگ جاتے ہیں یہ نہیں کہ خدا بولتا ہے۔انہی معنوں میں وہ قرآن کو مخلوق مانتے ہیں۔اہل السنت کہتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے تابع ہیں۔آئی إِنَّهُ لَا يَحْدُثُ فِي الْعَالَمِ شَيْءٌ إِلَّا بِارَادَتِهِ مَا شَاءَ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَاءُ لَمْ يَكُن جبکہ بصرہ کے معتزلہ کہتے ہیں کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ اللہ نہ چاہے اور چیز ہو جائے جیسے وہ بندے کا کفر نہیں چاہتا لیکن بندہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ چاہتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں جیسے وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ مومن ہو جائیں لیکن سب ایمان نہیں لاتے کچھا یمان لاتے ہیں اور کچھ کفر اختیار کرتے ہیں۔اہل السنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی صفات غیر ذات لیکن قائم بالذات ہیں جبکہ معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ذات کا عین ہیں ان کا کوئی الگ اور ممتاز وجود نہیں ورنہ تعدد قدماء لازم آئے گا۔اسی طرح اہل السنت یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ روح سے بالا ہتی ہے أَي إِن حَيَاتَهُ بِلا رُوح وَ بِلا إِعْتِدَاء وَإِنَّ الْأَرْوَاحَ كُلْهَا مَخْلُوقَةٌ جب کہ عیسائی کہتے ہیں کہ باپ کے علاوہ بیٹا اور روح القدس بھی قدیم یعنی ازلی ابدی ہیں۔اہل السنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے۔آئ هُوَ قادِرُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ جبکہ معتزلہ قدریہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مقدورات العباد پر قادر نہیں آتى إِنَّهُ تَعَالَى لا يَقْدِرُ عَلَى مَقْدُورَاتِ الْعِبَادِ وَلَا عَلَى مَقْدُورَاتِ الْحَيَوَانِ۔ان کے نز دیک انسان خود اپنی قدرت سے کام کرتا ہے خدا اسے اس کام کے کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔یہی حال حیوانات کا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے چلتے پھرتے اور سارے کام کرتے ہیں۔اہل السنت کے نزدیک افعال العباد کا خالق خدا ہے اور کسب کا تعلق انسان کے ارادہ اور اختیار سے ہے جبکہ جبر یہ کہتے ہیں کہ بندہ مجبور محض ہے سب کچھ خدا کرتا ہے۔قدریہ معتزلہ کہتے