تاریخ افکار اسلامی — Page 356
تاریخ افکا را سلامی ۳۵۶ مانتے ہیں جو شیعہ عقائد کے مطابق اپنی عمر کے کسی حصہ میں غائب ہو گئے تھے اور وقت مقدر پر ظاہر ہوں گے اور تعظیم دینی انقلاب کی قیادت کا فریضہ سر انجام دیں گے۔حضرت امام شافعی کا نام بھی محمد بن ادریس تھا جنہوں نے تفقہ فی الحدیث کے لئے خاص کام کیا۔اسی طرح صحیح بخاری کے مرتب کا نام محمد بن اسماعیل بخاری تھا جنہوں نے صحبت احادیث کے اصول مرتب کرنے کے لحاظ سے اُمت میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔ایک اور حدیث ہے۔لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْنِيِّ - يَفْتَحُ القُسطنطنيه وَ جَبَلَ دَيْلَمْ۔یعنی اُس وقت تک وہ موعود گھڑی کے نہیں آئے گی جب تک کہ قسطنطنیہ اور دیلم کے پہاڑی علاقوں کو میرے گھرانے کا ایک رجل شجاع فتح نہیں کرلے گا۔چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے لئے متعدد ہمیں بھجوائی گئیں۔ایسی پہلی کوشش حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں ہوئی جس میں کئی صحابہ بھی شامل تھے۔اس لشکر نے قسطنطنیہ کا محاصرہ بھی کیا لیکن کامیابی حاصل نہ ہو گی۔آخر یہ عظیم فتح ۱۴۵۳ء میں ایک عثمانی ترک سلطان کے ذریعہ نصیب ہوئی جس کا نام "محمد" تھا چنا نچہ تاریخ میں وہ سلطان محمد الفاتح " کے نام سے مشہور ہے۔ایک یورپی مورخ نے لکھا ہے کہ جب اس نیک دل بہادر بادشاہ نے قسطنطنیہ فتح کیا اور شہر کے بڑے بڑے پادری ، شہر اور وہاں کے مرکزی گر جا کی چابیاں بادشاہ کے حضور پیش کرنے کے لئے صف بستہ کھڑے ہوئے تو بادشاہ اپنے گھوڑے سے اترا اور سجدہ میں گر گیا۔اُس نے جب سجدہ سے سراٹھایا تو زمین سے مٹی لے کر اپنے تاج سر پر ڈالی اور کہا نہ تکبر ہے اور نہ استعلاش۔میں تو اپنے رسول کی ایک پیشگوئی پورا کرنے آیا ہوں جو قسطنطنیہ کی فتح سے متعلق تھی۔پھر سلطان نے چابیاں " البيان في اخبار صاحب الزمان صفحه ۱۴۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کو بھی اپنے خاندان میں شامل کیا ہے اور حضور کے زمانہ میں روسی ترکستان کے علاقے بھی فارس کا حصہ تھے۔البيان في اخبار صاحب الزمان صفحه ۱۴۱ کنزل العمال جلد ۷ صفحه ۱۸۷ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ۔غالبا یورپ اور مغربی اقوام کے دوسرے غلبہ کے آغاز کی طرف اشارہ ہے جس سے تیسری دنیا متاثر ہوئی یہ ایک آیہ کریمہ کی عملی تفسیر ہے جو یہ ہے۔تِلْكَ الدَّارَ الْآخِرَةُ تَجْعَلَهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عَدُوًّا في الأرضِ وَلَا فَسَادًا - (القصص : ۸۴)