تاریخ افکار اسلامی — Page 314
تاریخ افکا را سلامی سرسید احمد خاں صاحب کی نیچرل تحریک مسلم رہنماؤں میں سے سرسید احمد خاں (ولادت ۱۸۱۷ء) نے اس نازک دور میں اپنے دائرہ کار اور رجحان طبع کے لحاظ سے اصلاح احوال کی قابل قدرکوشش کی۔اُن کی اس تحریک کا یہ اثر خاصہ نمایاں رہا کہ اس علاقہ کے مسلمانوں کا ایک مؤثر طبقہ نئے علوم اور مغربی انداز بودوباش ، اُصول حکمرانی اور نٹے سیاسی انداز سے روشناس ہوا۔تاہم یہ تحریک نہ تو عالمگیر تھی اور نہ ہمہ پہلو۔اس تحریک کا مذہبی پہلو تو خاصہ کمزور اور مرعوبیت زدہ تھا۔اس وجہ سے بحیثیت مجموعی اس تحریک سے ملت اسلامیہ کے مصائب میں کوئی خاص کمی نہ آسکی۔اس سلسلہ میں قدامت پسند علماء کی شدید مزاحمت کا بھی انہیں سامنا کرنا پڑا۔ان کی مخالفت کا یہ انداز خاصا زور دار تھا کہ سرسید احمد خاں دینی علوم کے ماہر نہیں اس لئے جو کچھ دین کے بارہ میں انہوں نے لکھا ہے اس کی عقلی اور نقلی بنیا دیں بے حد کمزور ہیں اور اس سے ذہنی انتشا را در فکری تذبذب کے سوا کوئی اور مفید نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔بہر حال سرسید مرحوم نے دینی مسائل کے بارہ میں جو کچھ لکھا اور جسے مولانا حالی نے مرتب کیا اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔سرسید احمد خاں صاحب کے دینی نظریات اجماع اور قیاس حجت شرعیہ نہیں ہیں اور نہ یہ تشریح کے مسلمہ ماخذ ہیں۔صحاح ستہ کی احادیث تنقید سے با لانہیں اور نہ ان سے کسی دینی مسئلہ کا استنباط واجب التسلیم ہے۔اس طرح اگر کسی حدیث سے ہے۔اس اگر اسلام پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے تو اسلام اُس کا جواب یہ نہیں ہے۔بائیل میں تحریف لفظی کا دعویٰ درست نہیں۔ہاں تحریف معنوی ممکن ہے۔جو مسائل قرآن وسنت میں بالتصریح مذکور نہیں ان میں ہر سمجھدار اجتہاد کر سکتا ہے۔وضع ولباس میں نا یہ بالغیر قابل اعتراض نہیں۔جبر وقد را در تقدیر خیر وشر کا عقیدہ جزو ایمان نہیں۔قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی معجزہ کا ذکر نہیں۔اسی طرح انبیاء کے جن معجزوں کا ذکر ہے وہ بھی دراصل استعارے ہیں۔قرآن کریم کا اعجاز معنوی ہے لفظی نہیں۔کوئی بات خارق عادت یا خلاف فطرت وقوع پذیر نہیں ہو سکتی اس لئے معجزہ کا تصور غلط ہے اور معجزہ کو دلیل نبوت قرار دینا بھی بے اصل ہے۔ملائکہ مختلف فطرتی قوتوں کے نام ہیں۔شیطان اور ابلیس سے مراد نفس امارہ ہے۔آدم او را بلیس کا قصہ تمثیل ہے۔اس کی کوئی واقعی تاریخی