تاریخ افکار اسلامی — Page 312
تاریخ افکا را سلامی FIF حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو اللہ تعالیٰ نے علمی فضیلت کے علاوہ نیک اور قابل اولا د سے بھی نوازا تھا۔آپ کے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز، حضرت شاہ عبد القادر، حضرت شا در فیع الدین اپنے زمانہ کے چوٹی کے عالم اور دینی رہنما تھے۔سارے برصغیر میں ان کی قیادت دینی کو تسلیم کیا گیا۔خصوصاً حضرت شاہ عبد العزیز کی علمی خدمات نے بڑا موثر کردارادا کیا اور آپ کی قیادت میں علم حدیث کے فروغ نے اِرتقاء کے مراحل طے کئے۔اس مبارک خاندان کے پروردہ علماء مثلاً حضرت شاہ اسحاق اور مولانا مملوک علی مولانا احمد علی سہارنپوری، مولانا محمد قاسم نانوتوی بائی دارالعلوم دیو بند اور انیسویں صدی کے دوسرے بزرگان دین کے ذریعہ ہی علوم دینیہ کو عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔یہ سب خاندان ولی اللہی کے فیض یافتہ تھے۔بر صغیر کے قریبا تمام کی مسالک کیا بریلوی اور کیا دیو بندی، کیا سلفی اور کیا وہابی ، سب حضرت شاہ ولی اللہ اور آپ کے خانوادہ سے مذہبی اور دینی عقیدت رکھتے ہیں اور اسی چشمہ علمی کے فیض یافتہ ہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصلاحی تحریک کو حضرت شاہ اسماعیل شہید جو حضرت شاہ صاحب کے پوتے تھے اور حضرت سید احمد بریلوی شہید نے ایک نیا رنگ دیا۔ان دونوں بزرگوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے پنجاب کے مسلمانوں کو سکھوں کے تسلط سے آزاد کرانے کی تحریک چلائی اور مختلف علاقوں میں اپنے داعی بھیجے۔رضا کاروں کو جمع کیا۔مالی امداد کا انتظام کیا اور ایک لمبا فاصلہ طے کر کے سندھ اورافغانستان کے راستے صوبہ سرحد پہنچے اور سکھوں سے جنگ کا آغاز کیا لیکن بوجوہ نا کامی ہوئی اور دونوں بزرگ اور اُن کے بہت سے ساتھی بالا کوٹ ضلع ہزارہ کے مقام پر شہید ہو گئے۔اس نا کامی کی بڑی وجہ مقامی لوگوں کا عدم تعاون اور سپلائی کے مراکز کی ابتری اور دوری تھی۔بعض فقہی مسائل کا عملی اختلاف بھی خلفشار کا باعث بنا کیونکہ یہ دونوں بزرگ اور ان کے اکثر ساتھی سلفی یعنی اہل حدیث تھے اور مقامی پبلک حنفی المسلک تھی۔دوسری وجوہات کے علاو ہ اس وجہ سے بھی مجاہدین مقامی لوگوں کا دلی تعاون حاصل نہ کر سکے اور سکھ حکومت کے ایجنٹوں کی سازش کامیاب رہی۔چونکہ مسلم معاشرہ کا تنزل عالمگیر تھا۔دوسرے مقامی اصلاحی کوششیں بھی ہمہ پہلو نہ تھیں۔تیسرے بعد کی قیادت بڑی حد تک صالح سیاست سے بالکل عاری ہو گئی تھی اور صرف تشد د بلا استعداد و