تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 266 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 266

تاریخ افکارا سلامی ۴۶۶ خارجید کی چابیاں ہوتی ہیں اور انہی کے ذریعہ دوسرے مذاہب کے ساتھ رابطہ قائم رکھا جاسکتا ہے۔دروز کا دوسرا گروہ جثمانیوں کہلاتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں ایک الْأُمَرَاءُ الْحِمَانِیوں اور دوسرے العَامَّه ( الجُهَّال) الأمَرَاءُ الجِثْمَانِيُّون حرب و ضرب اور زعامہ وطعیت کے انچارج ہوتے ہیں اور جھال سے مراد وہ طبقہ ہے جو صرف مذہب کا نام جانتا ہے۔اُس کے مسائل اور اُس کے فلسفہ سے نا واقف محض ہوتا ہے۔یہ دونوں طبقات روحانی طبقات کا مقام کبھی حاصل نہیں کر پاتے لے رسائل الحاكم بامر اللہ کے مباحث بحیثیت مجموعی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ حاکم خدائی طاقتوں کا مدعی تھا اور اس بارہ میں سنیوں کا التزام بے جانہیں ہے۔درو زقرآن کریم کے من جانب اللہ ہونے کے قائل ہیں لیکن اُس کی آیات کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیات قرآنیہ کا ظاہر مراد نہیں بلکہ باطن مراد اور مطلوب ہے۔ان کی تاویل کی ایک مثال یہ ہے کہ نماز سے مراد حفظ الاخوان اور روزہ سے صدق اللسان ہے اور روحیں تناسخ کے چکر میں سرگرداں رہتی ہیں۔اسے وہ تقمّص کہتے ہیں یعنی وہ چولے بدلتی رہتی ہیں۔وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ یہ کائنات قدیم ہے اور ابدی بھی ہے کبھی نا بو دنہیں ہوگی۔۔۔ے جسمانی طبقہ کا کوئی فرد بڑی مشکلوں اور آزمائشوں اور کٹھن راستوں سے گزرنے اور اعتماد کے معیار پر پورا اتر نے کے بعد روحانی طبقہ میں قدم رکھنے کی سعادت پاسکتا ہے اس مرحلہ پر اُسے حلف اُٹھانا ہوتا ہے کہ وہ تمام ادیان سے بری الذمہ ہو کر اس مقام میں داخل ہو رہا ہے وانه لا يعرف غير طاعة مولانا الحاكم جلّ ذكره۔(تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٣٦٠) الشيعة فى التاريخ صفحه ۲۲ - اعتقادات فرق المسلمين والمشركين صفحه ۲۸ - فرق الشيعة صفحه ۷۵ - تاريخ الجميعات السرية فى الاسلام صفحه ۴۴ - تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۳۵۴ تا ۳۶۶ الاسلام والحضارة العربية جلد ۲ صفحه ٦٦ -