تاریخ افکار اسلامی — Page 253
تاریخ افکارا سلامی ۲۵۳ باتوں سے بہت متاثر ہوئے اور اُس کی تنظیم کے سرگرم رکن بن گئے۔ابو عبد اللہ الشیعی کی مغرب میں آمد ۲۸۸ھ کے قریب تھی یا ابوعبداللہ الشیعی نے تصوف کا جامہ اوڑھ رکھا تھا اور بڑے صوفی کے رنگ میں لوگوں کے سامنے آتا۔بہر حال اس نے ذہانت ، عزم اور احتیاط کے ساتھ بڑے خفیہ انداز میں اپنی دعوت کو آگے بڑھایا۔اُس نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ حضرت امام جعفر نے اپنے دو داعیوں کو ان علاقوں کی طرف بھیج کر جو یہ ارشاد فر مایا تھا کہ حَتَّى يَجِيءُ صَاحِبُ البَدْرِ تو وہ صاحب البذ ریعنی بیج بونے والا میں ہوں۔بہر حال ابوعبید اللہ الشیعی کی دعوت کی وجہ سے اردگرد کے علاقہ کے لوگ بکثرت اس کی تنظیم میں شامل ہونے لگے۔ان دنوں ان علاقوں میں اعمالِبہ کی حکومت تھی جو بنو عباس کی طرف سے ان علاقوں کے والی تھے۔ابوعبداللہ ہاشمی کے جتھوں کی اغالبہ کی فوجوں سے کئی جھڑپیں بھی ہو ئیں اور غلبہ ابو عبد اللہ الشیعی کے حامیوں کے ہاتھ رہا۔ابوعبد الله الشَّيْعِی نے یہ پراپیگنڈا بڑے زور وشور سے کیا کہ بس اب امام مہدی ظاہر ہونے والے ہیں اس کا اثر بھی بہت اچھا پڑا سکے اور ابو عبد اللہ کی طاقت بڑھتی رہی آخر ا غالبہ شکست کھا گئے اور ابو عبداللہ الشیعی نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور بڑے عدل وانصاف کا مظاہرہ کیا۔اس کا اثر بھی لوگوں پر بہت اچھا پڑا۔اس کے بعد ابو عبد اللہ الشیعی نے سلمیہ میں اپنے قائد کو پیغام بھجوایا کہ میدان تیار ہے آئیے اور تخت حکومت سنبھالئے۔چنا نچہ سعید بن الحسین جو احمد ابو الشَّلَعْلَع کا بھتیجا تھا اوراحمد ابو الشلعلع کی وفات کے بعد تحریک کا قائد بنا تھا عبید اللہ المہدی کے نام سے ۲۹۶ھ میں مغرب کے ان علاقوں کا حکمران بنا اور حکومت عبید یہ کی بنیا درکھی گئی۔قیروان دار الحکومت قرار پایا۔یہ عجیب بات ہے کہ مغرب میں فاطمیوں کی حکومت کے لئے ابو عبد اللہ بھی نے میدان ہموار کیا تھا اور اسی کی کوششوں سے حکومت غبیلیه قائم ہوئی تھی لیکن عبید اللہ المہدی نے جب استحکام حاصل کر لیا تو اس نے ۲۹۸ھ میں ابو عبد اللہ الشیعی اور اس کے بھائی ابو العباس دونوں کو مروا دیا ہے اور اس طرح اس نے اس تاریخ کو دہرایا جو دولت ل سهلت كراهة البربر للعرب انضمامهم لابی عبدالله الشیعی (تاريخ الدولة العربية صفحه ۴۶،۴۵) تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۵۱ تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۵۶