تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 243 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 243

تاریخ افکا را سلامی ۲۴۳ ہے کہ امام جعفر نے اس کے حق میں وصیت کی تھی کہ میرے بعد یہ جانشین ہو گا لیکن امام جعفر صادق سے پہلے وہ فوت ہو گیا۔لے اسمعیل نے جس شخص کی نگرانی میں پرورش پائی تھی اُس کا نام میمون بن دیصان القداح تھا تے اُس نے اور اس کے حامیوں نے امام جعفر صادق کی وفات کے بعد اس نظریہ کا اظہار کیا کہ جب ایک کے حق میں وصیت ہو جائے تو پھر وہ منسوخ نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ وصیت امام وقت کی طرف سے با علام الہی ہوا کرتی ہے اس لئے امام جعفر صادق کی وفات کے بعد امامت کا منصب امام اسمعیل کی اولاد کے سپر د ہوگا۔سے امام اسمعیل کے لڑکے کا نام محمد تھا چنانچہ ان لوگوں نے محمد بن اسمعیل کو اپنا امام تسلیم کر لیا۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی دعوی کیا گیا کہ چونکہ حکومت کی طرف سے خطرہ ہے کہ وہ امام وقت کو کوئی نقصان پہنچائے اس لئے انہوں نے چھپ کر زندگی بسر کی ہے یہاں سے امام مستور یعنی خفیہ امامت کے نظریہ کا آغاز ہوا۔اس "امام مستور کے لڑکے کا نام احمد تھا جو دوسرا امام مستور تھا۔امام احمد کے لڑکے کا نام محمد الحبیب تھا یہ تیسرا امام مستور تھا۔اس تیسرے امام مستور کے لڑکے کا نام عبد اللہ ہی تھا جو چو تھا امام ے چوتھا قرار پایا یہ کچھ عرصہ مستور رہا اس کے بعد مغرب یعنی شمال مغربی افریقہ میں اس کے نام سے عبیلیہ حکومت قائم کی گئی اس طرح عبید اللہ نے المہدی کے نام سے اپنے آپ کو ظاہر کر دیا۔ائمہ مستورین کا میہ دور کوئی دو سو سال تک ممتد ہے۔اس عرصہ میں یہ ائمہ مختلف جگہوں میں خفیہ طور پر رہے اور بڑی قيل قد ترك الامامة لابنه محمد الذي اصبح اماما سابعًا حقيقيًّا (العقيدة والشريعة صفحه ۲۱۲، ۲۱۳) تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۷۷ کے شیعہ اثنا عشریہ کے نزدیک بطریق بداء اسمعیل کی بجائے ان کے بھائی موسیٰ الکاظم کو امامت ملی لیکن اسماعیلی کہتے ہیں إِنَّ الْإِمَامَةَ لَا تَقِلُ مِن آخ إلَى أَحْ بَعْدَ الحسن والحسين وَلَا تَكُونَ إِلَّا فِي الْأَعْقَابِ (تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ١٨٣ فرق الشيعة صفحه ۷ ۵ تا ۹۰) الدولة الفاطمية صفحه ۳۹ - حسن ابراهیم حسن استاذ التاريخ الاسلامی جامعه قاهره مكتبة النهضة المصرية القاهره طبع رابع ۱۹۸۱ء - ه بعض کے نزدیک ائمہ مستورین کے نام یہ ہیں۔عبید اللہ المہدی بن احمد بن اسماعیل بن محمد جو کہ اسماعیل بن جعفر صادق کے لڑکے تھے۔والاسماعيلية الذين يؤيدون صحة نسب عبيد الله يكادون يتفقون على ان عبيد الله المهدى هو ابن الحسين بن احمد بن عبدالله بن محمد بن اسماعیل ( الدولة الفاطمية صفحه ۶۶ و ۷۷)۔ان الأئمة المستورين لم يكونوا معروفين لغير خاصتهم و ان الدعاة كانوا يختلفون في ذكر اسمائهم لِلْخِفَاء ( الدولة الفاطمية صفحه ۷۸)