تاریخ افکار اسلامی — Page 242
تاریخ افکا را سلامی Fr لیکن نا قابل اعتبار حمایت کی وجہ سے ناکام رہے اور بری طرح شکست کھائی اور حکومت وقت کے زیر عتاب آگئے خصوصاً زیاد اور حجاج کے زمانہ میں اُن پر بڑی سختیاں ہوئیں۔ایسے حالات میں بنو امیہ کے ان مخالف عناصر نے اپنی تحریک کو خفیہ رنگ دے دیا۔کہا جاتا ہے کہ اس زمانہ کے سر بر آوردہ علویوں اور عباسیوں نے با ہمی مشورہ سے ایک جارحیت پسند خفیہ تنظیم قائم کی جس کا سر براہ محمد النفس التزکیہ بن عبد اللہ بن حسن کو منتخب کیا گیا اور ان کی بیعت بطو رامام مہدی کی گئی۔اس تحریک میں بنو عباس پیش پیش تھے۔اس تنظیم نے اپنے داعی اور مبلغ دوردراز کے علاقوں میں بھجوائے جنہوں نے خفیہ طور پر وہاں کے لوگوں کو حکومت بنو امیہ کے خلاف منظم کیا۔چنانچہ خراسان اور گر دو پیش کے علاقے اس خفیہ تحریک کے گڑھ بن گئے۔آخر یہ تحریک کھلم کھلا مقابلہ پر آگئی اور بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ پر منتج ہوئی۔خراسان کی فوجوں کا سربراہ ابو مسلم خراسانی تھا چونکہ اس کامیابی میں انہی خراسانی فوجوں کا نمایاں کردار تھا اس لئے ابو مسلم خراسانی نے بوجوہ علویوں کی بجائے عباسیوں کے اقتدار کی حمایت کی اور بنو عباس خلیفہ بن گئے۔شروع میں تحریک علویوں کے نام پر چلائی گئی تھی اور دوران تحریک بھی انہی کا نام زیادہ تر استعمال ہوا اور عوام سے کہا گیا کہ آل بیت الرسول کے حق کے لئے یہ سب کوششیں ہو رہی ہیں اس لئے خلاف تو قع اقتدار جب بنو عباس کو مل گیا تو علویوں نے اس کو اپنی حق تلفی سمجھا۔اس طرح بنو عباس اور بنوعلی میں ٹھن گئی۔جو علوی پہلے بنو امیہ کے ظلموں کا نشانہ بنے ہوئے تھے اب وہ بنو عباس کی زیادتیوں کی آماجگاہ بن گئے اور بہت سے علوی یعنی سادات مختلف لڑائیوں میں مارے گئے انہی میں امام محمد النفس الزکیہ بھی شامل تھے جن کی ابو جعفر منصور نے بطو رامام مہدی بیعت بھی کی ہوئی تھی۔بہر حال بنو علی بدستور حکومت وقت کے زیر عتاب تھے اور ہر وقت عباسی حکام کے زیر نظر رہتے تھے۔اس پس منظر میں حضرت امام جعفر صادق کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے جس کا نام اسمعیل رکھا گیا بیا امام جعفر کا بڑالڑ کا تھا اور کہا جاتا الاسلام والحضارة العربية جلد ۲ صفحه ۴۱۸ أدْرَكَ الْعَلَوِيُّونَ أَنَّ العَبَّاسِيِّينَ فَدَخَدَعُوهُمْ وَاسْتَأَثَرُوا بِالخَلافَةِ دُونَهُمْ مَعَ أنا ن بِهَا مِ فَنَابَلُوهُمُ الْعَدَاءَ وَ نَظَرُوا إِلَيْهِمْ كَمَا كَانُوا يَنظُرُونَ إِلَى الْأَمْرِيِّينَ مِنْ قَبْلُ۔تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۲۸)