تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 227 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 227

تاریخ افکارا سلامی عِند أهل السنة ۲۲۷ زید یہ کے تینوں گروہ خوارج کی طرح کبیرہ گناہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی مانتے ہیں۔فرقہ زید یہ یمن میں بر سر اقتدار ہے اور دوسرے شیعہ فرقوں کی نسبت اہل سنت کے زیادہ قریب ہے۔فقہ زیدیہ بھی ایک قابل قدر علمی سرمایہ اور مطالعہ کے لائق فقہ ہے۔شیعوں کا تیسر ابر اضمنی فرقہ الكَيْسَانِيَّة " شیعوں کا یہ فرقہ مختار بن عبید ثقفی المقتول ۶۷ ھ کی طرف منسوب تھا۔مختار حضرت امام حسین کے قاتلین سے انتقام لینے کا دعوی لے کر اُٹھا اور اُن کو چن چن کر قتل کیا یہاں تک کہ ایک جنگ میں امام حسین کے قتل میں ملوث آخری آدمی محمد بن الاشعث کندی کو بھی قتل کیا اور کہا وَاللَّهِ لَا أَبَالِي بالموت بعد هذا۔چنانچہ اسی جنگ کے تسلسل میں مختار مارا گیا۔مختار کے اسی کا رنامہ کی وجہ سے عام شیعہ کے دل میں اُس کی بہت زیادہ قدر ہے۔مختار نے حضرت علی کے ایک غیر فاطمی بیٹے محمد بن الحنفیہ کو امام مانے کی دعوت دی اور انہیں مہدی قرار دیا۔گیسان مختار کا خفیہ نام تھا۔بعض روایات کے مطابق گیسان امام محمد بن الحنفیہ کا ایک مقرب شاگر د تھا۔جس نے مختار کو قاتلین حسین سے انتقام لینے پر اکسایا تھا اور فرقہ گیسانی کی گیسان کی طرف منسوب ہے۔+ بہر حال مختار کو اس دعوت میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔کوفہ اوراس کے گردو نواح میں سترہ ہزار کے قریب لوگ اُس کے پیرو بن گئے ان دنوں عراق کا علاقہ عبد اللہ بن زبیر کے قبضہ میں تھا اور خاصے انتشار کا شکار بنا ہوا تھا۔مختار نے آغاز میں زبیریوں کو اس علاقہ میں بے اثر کر دیا مختار وحی والہام کا بھی مدمی تھا اُس نے کئی پیشگوئیاں کیں جو پیشگوئی پوری ہو جاتی اسے وہ اپنی صداقت کے طور پر پیش کرنا اور جو پوری نہ ہوتی اس کے بارہ میں کہتا کہ خدا نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔اس تبدیلی ارادہ کا اُس نے اصطلاحی نام بداء " رکھا۔نظریہ بداء پہلی دفعہ مختار نے ہی پیش کیا تھا اس کے بعد بعض اور شیعہ فرقوں نے اس سے متعدد بار کام لیا۔جیسا کہ شیعہ اثنا عشریہ کے بیان میں ذکر آ چکا ہے لیے الفرق بين الفرق صفحه ۲۶ تا ۳۵ - تاريخ الشيعة صفحه ۳۳ - فرق الشيعة صفحه ٢٣