تاریخ افکار اسلامی — Page 216
تاریخ افکا را سلامی MY یہ آخری بارھویں امام اثنا عشریہ کے نزدیک امام غائب یا مہدی منتظر تسلیم کئے گئے ہیں۔یہ عباسی حکومت کی مشہور چھاؤنی سُر من رای۔۔۔میں اپنے باپ کے ایک تہ خانہ میں غائب ہوئے اور اب تک غائب ہیں۔آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور دنیا سے ظلم و جور کو مٹائیں گے اور اُسے عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔امام غائب کی غیبوبت کے دو دور محمد بن الحسن العسکری المهدی المنتظر " جب غائب ہوئے تو ان کی عمر کیا تھی ؟ اس بارہ میں اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک اڑھائی سال بعض کے نزدیک چار سال اور بعض کے نز دیک آٹھ سال تھی۔ان کی غیو بہت کا زمانہ دو حصوں میں منقسم مانا گیا ہے: غیبوبت صغری، جو ۶۰ ۲ تا ۳۲۹ھ تک کا زمانہ ہے۔اس عرصہ میں امام غائب کے چار سفیر اُن کی قائم مقامی کرتے رہے وہ چار سفیر یہ ہیں: ا عثمان بن سعید ۲ محمد بن عثمان الشيخ الخلاني - الحسین بن روح اللہ النوبختی اور آخری سفیر علی بن محمد السمره المتوفی ۳۲۹ھ اس آخری سفیر نے اپنی وفات سے پہلے ایک توقیع" ار قسم پروانہ جاری کیا جس میں یہ اطلاع تھی کہ اب غیبوبت صغری کا زمانہ ختم ہے اور غیبوبت کبری کا دور شروع ہو رہا ہے جو مہدی منتظر کے ظہور تک جاری رہے گا۔لے اس عرصہ میں شیعہ اثنا عشریہ کے علماء اور مجتہد امام غائب کی قائم مقامی، عوام کی رہنمائی اور تنظیم اور دین کی اشاعت کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے۔یہی فرقہ امامیہ اثنا عشریہ ان دنوں ایران میں بر سر اقتدار ہے اور عراق ، ہندوستان اور پاکستان وغیرہ علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے اور انتہائی توسیعی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔شیعہ اثنا عشریہ کی فقہ جو فقہ جعفریہ کے نام سے مشہور ہے ایک قابل مطالعه علمی سرمایہ ہے۔فرق الشيعة ص صفحه ١٠٣ حاشيه - تاريخ الشيعه صفحه ۷۱ تا ۷۴ - الدولة الفاطمية صفحه ٣٦ الشيعة في التاريخ صفحه ۷۴ تا ۷۶ محمد حسين الزين العاملي مطبع العرفان۔صيداء طبع ۱۹۳۸ء الفرق بين الفرق صفحه ۴۳