تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 215 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 215

تاریخ افکا را سلامی ۲۱۵ جانشین مقرر کر دے تو پھر یہ نص کسی حال میں بھی منسوخ نہیں ہو سکتی اور آئند ہ امامت اس منصوص علیہ کی اولاد اور نسل کی طرف جاتی ہے اس لئے ان کی نزدیک امام جعفر کی وفات کے بعد امام اسمعیل اور ان کی اولاد کو امام تسلیم کیا جانا چاہیے۔بہر حال اس اصولی نظریہ پر متفق ہونے کے بعد یہ فرقہ کئی ضمنی شاخوں میں بٹ گیا مثلاً۔(الف) ایک گروہ کے نزدیک امام اسمعیل فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور آخری امام اور ”مہدی منتظر ہیں۔ان کی آگے کوئی اولاد یا نسل نہیں تھی۔وہی آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور امام مہدی کے فرائض سر انجام دیں گے۔(ب) ایک فرقے کے نزدیک امام اسمعیل فوت ہو چکے ہیں اور ان کے بعد اُن کے بیٹے محمد بن اسماعیل امام بنے۔دو مہدی منتظر او ر القائم صاحب الزمان ہیں۔وہ روم کے علاقہ میں زندہ موجود ہیں آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور شریعت اسلامیہ کو منسوخ کر کے نئی شریعت جاری کریں گے۔(ج)۔ایک تیسرے گروہ کے نزدیک امام محمد بن اسمعیل کی اولاد میں امامت جاری ہے۔اسی نسل کے ائمہ بعد میں حکومت عبید یہ اور فاطمیہ کے بانی بنے۔اسماعیلیہ با طفیہ کی بھی یہی رائے ہے اور موجودہ آغا خانی شیعہ اور بو ہرے بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں جیسا کہ آئندہ صفحات میں اس کی تفصیل اپنی جگہ پر آئے گی لیہ -٦ الموسويه اس فرقہ کو العماریہ اور الممطوریہ بھی کہا جاتا ہے۔یہ فرقہ امام جعفر کے بعد اُن کے بیٹے امام موسیٰ کاظم کو آخری امام اور مہدی منتظر مانتا تھا۔القطعيه يا الاثنا عشریہ۔اس فرقے کا ایک نام أَصْحَابُ الانتظار بھی ہے۔اس فرقہ کا نام القطعہ اس وجہ سے ہے کہ یہ موسویہ فرقہ کے بر خلاف امام موسیٰ کاظم کی وفات کا قائل ہے۔انى أَنَّهُمْ قَطَعُوا بِمَوْتِ مُوسَى الْكاظِمِ بِخَلافِ الْمُوْسَوِيَّةِ۔شیعہ اثنا عشریہ ائمہ منصوصہ کی مندرجہ ذیل ترتیب مانتے ہیں۔حضرت علی ، امام حسن ، امام حسین، امام علی زین العابدین، امام محمد باقر ، امام جعفر صادق ، امام موسیٰ کاظم ، امام علی الرضاء امام حمد الجواد، امام علی البادی ، امام الحسن العسکری او را مام محمد بن الحسن العسکری۔L الفرق بين الفرق صفحه ۱۴۲ الفرق بين الفرق صفحه ۴۲