تاریخ افکار اسلامی — Page 203
تاریخ افکارا سلامی من ربك وَ إِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلغَتَ رِسالت میں اسی آسمانی وصیت کی تبلیغ کی طرف اشارہ ہے۔ہے حضرت علیؓ کے حق میں وصیت والی روایتوں پر اہلسنت والجماعت کا نتبصرہ مذکورہ بالا وجو ہات میں سے کوئی وجہ بھی حضرت علی کے استحقاق خلافت بلا فصل کو بالصراحت ثابت نہیں کرتی۔کے سوائے آخری دو وجوہات کے کہ اگر یہ دونوں وجوہات ثابت ہوں تو یہ حضرت علی کی خلافت بلافصل کی زیر دست دلیل ہیں لیکن ان دو وجوہات کا اور اس قسم کی کسی وصیت کا نہ کوئی قطعی اور مستند تاریخی ثبوت ہے اور نہ کوئی دینیاتی بلکہ وصیت کا نظریہ بہت بعد کی پیداوار ہے اور اس کا موجد جیسا کہ تو اریخ سے ثابت ہے عبد اللہ بن السوداء یہودی الاصل ہے جس نے حضرت علی کی خلافت کے آخری دور میں یہ چہ چا کیا کہ اُس نے تو رات میں یہ پڑھا ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اس لئے آنحضرت کے وصی علی ہیں اور جس طرح آنحضرت خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح علی بھی خاتم الاوصیاء ہیں۔ہے بہر حال نظر یہ وصیت کے غلط ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اگر انحضرت ﷺ کی حضرت علی اور ان کی فاطمی اولاد کے حق میں وصیت ہوتی اور اُمت کو اپنا امام بذریعہ شوری منتخب کرنے کا حق نہ المائدة : ۶۸ تفصیل کے لئے دیکھیں تا ریخ الفرق الاسلامیه صفحه ۳۳ و صفحه ۱۰۹ مؤلفه العلامه الشيخ محمد خليل الزين تشيع المسلك مطبوعه مطبع مؤسسة الأعلمى للمطبوعات بيروت لبنان طبع ثاني ۱۹۸۵ء تاريخ الشيعة صفحه ۲۰۱۹ مؤلفه الشيخ محمد حسين المظفر تشیع المسلک مطبوعه مطبع دارالزهرا بیروت - لبنان ۱۹۸۵ء - علی و بنوه صفحه ۱۵ و ۶۹۰۶۸ مؤلفه طه حسین مطبوعه مطبع دار المعارف قاهره مصر ایڈیشن ،روم ۱۹۸۲ء الكامل جلد ۲ صفحه ۶۳ علامه عزالدین علی بن ابی الكرم محمد المعروف بابن الاثير مطبوعه اداره الطباعة الميسريه مصر ١٣٣٩هـ سے زیادہ سے زیادہ ان مبینہ فضائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض دوسرے صحابہ کی طرح حضرت علی کرم اللہ وجھہ میں بھی خلیفہ راشد بننے کی صلاحیت موجود تھی لیکن خلیفہ تو کسی ایک نے منتخب ہونا تھا۔صحابہ نے بعض مصالح کی بناء پر حضرت علی کی بجائے حضرت ابو بکر کو ترجیح دی۔ولنعم ما قيل ان الصحابة عرفو الاهل البيت مكاناتهم من النبي واستحقاقهم لكل كرامة و لكنهم مع ذلك صرفوا الخلافة الى من هو اقدر على النهوض بامر الخلافة واعباء السلطان كما شهد التاريخ بصدق ما قيل ( علی و بنوه صفحه ۱۸۱) الفرق بين الفرق ۱۷۸