تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 186 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 186

تاریخ افکا را سلامی ۱۸۶ حضرت امام ابن حزم الظاہری امام علی بن احمد بن سعید بن قوم ۴۸۳ ھ میں قرطبہ (اندلس) میں پیدا ہوئے۔آپ فارسی الاصل تھے۔آپ کے والد احمد اندلس کی اُموی حکومت میں وزارت کے عہدہ پر فائز تھے اور خاندان بڑا مال دار اور فارغ البال تھا۔لائق بیٹے نے حصول علم کے لئے خوب محنت کی ، ذہن بھی بڑا سا پایا تھا۔سب سے پہلے گھر کی خادماؤں سے قرآن کریم حفظ کیا اور اُن سے لکھنا پڑھنا سیکھا اور انہی کی نگرانی میں پلے بڑھے۔اس کے بعد علامہ ابو الحسن بن علی الفاسی سے پڑھنا شروع کیا۔ابوالحسن بڑے پر ہیز گار عالم با عمل اور ماہر تعلیم بزرگ تھے۔ابن حزم ان کی تعلیم و تربیت سے بہت متاثر ہوئے۔پر ہیز گاری اور قناعت کا سبق انہی سے سیکھا اور ان کی تعریف میں ہمیشہ رطب اللسان رہے تے۔ابو الحسن کے علاوہ اندلس کے دوسرے سر بر آوردہ علماء سے بھی پڑھا اور بہت جلد ماہر علوم اور یگانہ روزگار بن گئے۔چونکہ ابن حزم کا خاندان اموی الہوئی اور امویوں کے اقتدار میں حصہ دار تھا اس لئے سیاسی خلفشارا وراقتدار جلد جلد بدلنے کی وجہ سے آپ کے خاندان کو بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا اور اس سے ابن حزم کا متاثر ہونا بھی لازمی تھا۔آپ اور آپ کا خاندان امویوں کے عروج و زوال میں برابر کے شریک رہے اور پرانے آبائی تعلقات کو ہمیشہ قائم رکھا۔اگر اقتدار میں حصہ دا رر ہے تو زوال اور بد حالی میں بھی ساتھ نہ چھوڑا اور نہ اپنی وفاداری پر کبھی کوئی حرف آنے دیا۔دوسری طرف مالکی علماء امام ابن حزم کے سخت خلاف تھے۔انہوں نے آپ کو کہیں بھی چین و سے نہ بیٹھنے دیا۔اگر چہ امام ابن حزم بڑے جری اور کسی سے دبنے والے نہیں تھے اور برابر کا جواب دیتے تھے لیکن عددی اکثریت کی وجہ سے مالکی علماء ہی کی مانی جاتی تھی اور آپ کے حامی اموی بر سر اقتدار بھی نہیں رہے تھے۔اس لئے مالکی علماء کے اُکسانے پر اندلس کے امیر نے آپ کو۔ل كان جده الاعلى مولى ليزيد بن ابی سفیان اخى معاوية و على هذا هو قرشى بالولاء فارسى بالعنصر (محاضرات صفحه ۳۸۴) ا كان يقول مارأيت مثله علما و عملا و دينا و ورعًا فَتَفَعَنِي الله به کثیرا (محاضرات صفحه ۳۸۵)