تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 181 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 181

تاریخ افکا را سلامی IMI کہ سوائے دوصورتوں کے ہر طلاق رجعی ہوتی ہے یعنی خاوند عدت کے اند ررجوع کر سکتا ہے۔ان دو صورتوں میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ رخصتانہ سے پہلے طلاق دی جائے یہ طلاق بائن ہوگی اور خاوند کو رجوع کا حق نہ ہوگا۔دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند حسب شرا کا تیسری طلاق دے اس کے بعد خاوند کو نہ رجوع کا حق ہو گا اور نہ نکاح کا۔جب تک کہ حَتَّی تَنكِحَ زَوْجًا غیرہ کی شرط پوری نہ ہو۔حضرت عمر کے فیصلہ کے بارہ میں آپ کا موقف یہ تھا کہ آپ کا یہ حکم صرف تعزیر اور سزا کے طور پر تھا اور صرف اس صورت میں تھا جبکہ خاوند نے رخصتانہ سے پہلے طلاق دی ہو اور تین بار کہا ہو کہ تجھے طلاق ، تجھے طلاق، تجھے طلاق۔یہ نکاح جیسے مقدس معاہدہ کے ساتھ کھیل تھا اور حضرت عمر نے اس کھیل سے لوگوں کو با زرکھنے کے لئے یہ سزا تجویز کی تھی کہ ایسے شخص کو دوبارہ اس عورت سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی یہ موقف آپ نے اُس حدیث کی بنا پر اختیار کیا جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔آپ کا یہ موقف بھی جیلی مذہب بلکہ باقی تینوں مذاہب کے خلاف تھا۔طلاق معلق کے بارہ میں بھی آپ کا موقف مذاہب اربعہ کے موقف کے خلاف تھا اور آپ کی رائے تھی کہ ایسی طلاق ++ لغو اور غیر مؤثر ہے۔حدیث کی بنا پر آپ کا یہ موقف بھی تھا کہ اگر ایک شخص اقرار کرے کہ اُس نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے جبکہ وہ عورت انکار کرتی ہو تو اس شخص کو صرف زنا کی سزا دی جائے گی قذف کی سزا نہ ملے گی۔اس موقف میں آپ نے حنفیوں کی بھی مخالفت کی ہے کیونکہ ان کے نزدیک ایسے شخص پر زنا کی سزا جاری نہ ہوگی اور اُن فقہاء کی بھی مخالفت کی ہے جو کہتے ہیں کہ ایسے شخص کو زنا اور قذف دونوں جرموں کی سزا دی جائے گی۔آپ کی رائے تھی کہ سوائے تین مساجد یعنی بیت الحرام۔مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے کسی اور جگہ محض زیارت اور ثواب کی قیمت سے جانا جائز نہیں۔ابن القيم الجوزية صفحه ۵۶ ( بحواله زاد المعاد جلد ۴ صفحه (۶)