تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 151 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 151

تاریخ افکار را سلامی سنتا گیا حیرت میں ڈوبتا گیا۔آئیں آپ کو بھی دکھاتا ہوں۔چنانچہ اسحاق بن راہویہ نے بھی آپ کو درس دیتے سنا اور حیرت زدہ رہ گئے لیے مکہ میں آپ نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تالیف و تصنیف کا سلسلہ بھی شروع کر دیا تھا۔اپنے نئے فقہی مسلک کی وضاحت کے لئے قواعد استنباط مرتب کئے اور نئے فقہی مذہب کی بنیا د رکھی۔یہیں یہ آپ نے دور سالے بھی لکھے جن میں سے ایک کا نام ” خلاف ما لک“ ہے جس میں اپنے استاد امام مالک کے بعض فقہی نظریات پر تنقید کی اور اہل مدینہ کے عمل کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا دوسرے اخذ حدیث کے متعلق امام مالک کی احتیاط کو بلاوجہ تشدد قرار دیا۔دوسرے رسالے کا نام آپ نے خَلافُ الْعِرَاقِینَ “ رکھا اور امام ابو حنیفہ کے نظریات پر تنقید کی۔اس طرح تدریس و تصنیف میں آپ نے قریباً بارہ سال مکہ میں گزارے ۱۹۵ھ میں جبکہ آپ کی عمر پینتالیس سال تھی آپ دوبارہ بغداد گئے۔وہاں پہنچ کر امام ابوحنیفہ کے مزار پر دعا کی، ساتھ کی مسجد میں دو نفل پڑھے اور صرف شروع میں رفع یدین کیا جب پو چھا گیا تو فرمایا امام ابوحنیفہ پوچھا کی عظمت کے اعتراف اور پاسِ ادب کی خاطر انہوں نے ایسا کیا ہے۔بغداد میں رہ کر آپ نے دو اور کتابیں لکھیں ان میں سے ایک کا نام ”الرسالہ ہے جو دراصل اصول فقہ کے بارہ میں آپ کا منفرد کارنامہ ہے اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی تحریری کام نہیں ہوا تھا۔دوسری کتاب کا نام آپ نے المَبسُوط رکھا اس میں بھی اپنے فقہی منہاج کی تفصیل پیش کی یہ دونوں کتب الكسب البغداديه " کے نام سے مشہور ہیں اور آپ کے لائق شاگر دالحسین بن محمد الصباح الزعفراني (متوفی ۲۶۰ ھ ) کے ذریعہ مروی ہیں۔یہ کتا بیں چند اور رسائل کو ملا کر " آلام " کے نام سے طبع شد و اور در شامتند اول ہیں۔کے ۱۹۹ ھ میں جب آپ مصر گئے اور وہاں مالکی علماء سے واسطہ پڑا تو آپ نے اپنی کتابوں میں کچھ ترامیم کیں جو آپ کے دوسرے لائق شاگر دالر بیچ بن سلیمان المرادی (متوفی ۲۷۰ ھ ) کی الامام الشافعی صفحه ۱۳۵ الامام الشافعي صفحه ۱۱۵ الامام الشافعی صفحه ۱۹۶ حاشیه نیز مزید تفصیل کے لئے دیکھیے الامام الشافعی صفحه ۱۳۹، ۱۹۴۱۹۳، ۱۹۵، ۲۱۵ - محاضرات صفحه ۲۹۳