تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 150 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 150

تاریخ افکا را سلامی 10+ امیر المؤمنین غور فرما دیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کیسے شریک ہو سکتا ہوں جو مجھے اپنا غلام سمجھتے ہیں اور آپ کے خاندان کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں جو مجھے اپنا بھائی قرار دیتا ہے۔لے امام محمد بن حسن دربار میں موجود تھے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شافعی نے کہا۔میں ایک علمی آدمی ہوں علم سے شغف رکھتا ہوں بغاوتوں سے مجھے کیا سروکار اور یہ قاضی سب کچھ جانتے ہیں۔رشید نے امام محمد بن حسن کی طرف دیکھا کہ یہ کیا کہتا ہے امام محمد نے جواب دیا۔شافعی ٹھیک کہتے ہیں میں ان کو جانتا ہوں یہ شورش پسند طبیعت کے نہیں بلکہ بڑے عالم ہیں اور درس و تدریس ان کا شغل ہے۔شافعی کی فصاحت اور امام محمد کی سفارش کام کر گئی اور رشید نے امام محمد سے کہا اچھا اسے اپنی عمرانی میں رکھیے اس کے بارہ میں بعد میں فیصلہ کروں گاتے۔اس طرح امام شافعی امام محمد کی سر پرستی میں آگئے اور آپ کے گھر رہنے لگے۔آپ سے حفی فقہ کی تفصیلات پڑھیں اور آپ کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔اس طرح آپ کا یہ ابتلاء علمی ترقی کا باعث بن گیا گویا آپ کو مدنی اور عراقی دونوں بہوں کے جامع امام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔امام محمد کے اس احسان کی ہمیشہ آپ کے دل میں قدر رہی اور آپ ان کا ذکر بڑے احترام سے کرتے تھے۔امام شافعی اور درس و تدریس بغداد میں دو سال کے قریب رہنے کے بعد آپ واپس مکہ آئے اور مسجد الحرام میں اپنا حلقہ درس قائم کیا جس نے آہستہ آہستہ خاص ترقی حاصل کی۔امام احمد بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں مکہ گیا تو میں نے محمد بن اور لیس کو مسجد الحرام میں درس حدیث وفقہ دیتے سنا۔آپ نے اپنے دوست اسحاق بن راہویہ سے کہا میں نے ایک نوجوان کو دیکھا ہے اُس کی باتیں جوں جوں قال الشافعى يا امير المؤمنين ما تقول في رجلان احد هما يراني اخاه و الاخریرانی عبده ايهما احب الى قال الرشيد الذي يراك اخاه قال الشافعي فذاك انت يا امير المومنين انتم ولد العباس وهم ولد على (يرون كل الناس عبيدهم ونحن بنو المطلب فانتم ولد العباس تروننا اخوتكم وان لى حظا من العلم و ان القاضي محمد بن الحسن يعرف ذالک (محاضرات صفحه ۲۵۳) تفصیل کے لئے دیکھئے (الامام الشافعي صفحه ۱۸۲۹و۸۳ و مالک بن انس صفحه ۲۷۷ محاضرات صفحه ۲۵۳