تاریخ افکار اسلامی — Page 149
تاریخ افکا را سلامی امام شافعی کا ابتلا ۱۴۹ حضرت امام مالک کی وفات کے بعد آپ مکہ واپس آگئے۔روزگار کی تلاش میں یمن گئے وہاں آپ کا ننہال بھی تھا۔والی کی سفارش پر آپ کو نجران میں ایک معقول عہدہ مل گیا جو مالی سہولت کا باعث تھا لیکن پبلک تعلق کے سلسلہ میں آپ کو کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔لوگ دھاندلی سفارش اور مفاد پرستی کے عادی تھے۔خصوصا علاقہ کے امراء من مانی کرنا جانتے تھے۔ادھر آپ کسی کی سفارش کی پرواہ نہ کرتے اور عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق معاملات طے کرنا جانتے تھے۔اس وجہ سے آپ کے خلاف شکایتوں کا زور بڑھا۔نجران کا نیا والی ظالم طبع اور جور پسند تھا، وہ بھی آپ کا مخالف ہو گیا۔! دھر عباس علویوں کے بارہ میں بڑے حساس تھے اور انہیں ڈرلگا رہتا تھا کہ علویوں کی حمایت کہیں زور نہ پکڑ جائے۔نجران کے والی نے عباسیوں کی اس کمزوری سے فائدہ اُٹھایا اور ایک سازش کے تحت ہارون الرشید کے پاس شکایت کی کہ نجران میں چند علومی شورش بپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں محمد بن اور لیس الشافعی بھی شامل ہے۔ہارون الرشید نے فورا اس شکایت کا نوٹس لیا اور حکم دیا کہ ان باغیوں کو فورا گر فتار کر کے بغد اولا یا جائے۔چنانچہ سب ملزم جن میں محمد بن اور لیس الشافعی بھی تھے یا بہ زنجیر بڑی صعوبتوں کے بعد بغداد پہنچے اور ہارون الرشید کے سامنے پیش کئے گئے۔رشید نے ایک ایک کر کے سب کا بیان لیا۔بالکل سرسری سماعت تھی۔وہ سب کی گرد نہیں اُڑاتا گیا۔ایک ملزم نے کہا میں بے قصور ہوں لیکن اگر آپ مجھے قتل ہی کرنا چاہتے ہیں تو اتنی اجازت دیں کہ اپنی بیما را ور بوڑھی والدہ کو خط لکھ سکوں جو مدینہ منورہ میں لاچار میری واپسی کے انتظار میں بیٹھی ہوگی لیکن رشید نے اُس کی ایک نہ سنی اور فورا گردن اُڑا دینے کا حکم دیا۔جب امام شافعی کی باری آئی اور رشید نے آپ کی طرف " غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا آپ لوگ خلافت کے خواب دیکھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم خلافت کے اہل نہیں۔شافعی کے سامنے تو آدمی خاک و خون میں غلطاں تڑپ رہے تھے اور بڑا بھیا تک منظر تھا لیکن آپ نے حوصلہ قائم رکھا۔جواب کا موقع ملنے پر خدا داد ذہانت سے کام لیتے ہوئے بچے ملے الفاظ میں کہا۔دشمنی اور حسد کا شکار ہوا ہوں ، مخالفین نے ناحق مجھے ملوث کیا ہے