تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 145 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 145

تاریخ افکا را سلامی ۱۴۵ خدمت میں بھجواتے اپنے بچوں کو شرف تلمذ حاصل کرنے کے لئے مدینہ لاتے۔بعض اوقات مجلس درس میں خود بیٹھ کر درس سنتے۔دوسری طرف اندلس کے اُموی امراء بھی آپ سے بڑی گہری عقیدت رکھتے تھے اور آپ کی۔خدمت میں تحائف بھجوانے میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔اس کی سیاسی وجوہات بھی تھیں کیونکہ اندلس کی حکومت بنو عباس کی خلافت کے مخالف تھی اس لئے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ ہی ایسی جگہیں تھیں جہاں اندلس اور قرب وجوار کے لوگ آزادانہ آجا سکتے تھے اور ان علاقوں کے طلبہ کا رخ بھی مدينة الرسول کی طرف ہوتا تھا۔بہر حال امام مالک استاذ مدينة الرسول ہونے کی وجہ سے دونوں حکومتوں کے مرکز توجہ تھے اور جہاں تک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعلق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے نہ امام مالک نے کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیا اور نہ دوسرے بزرگ ائمہ نے اس میں کسی قسم کی کوتا ہی روا رکھی۔اپنے اپنے انداز میں ہر ایک یہ فریضہ سر انجام دیتا رہا ہے حکومت عباسیہ ائمہ دین کا تعاون حاصل کرنے کے لئے مسلسل کوشاں رہی تا کہ اُن کے تعلق کی وجہ سے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہو جائیں۔عراق میں امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کا اثر ورسوخ تھا۔اُن سے تعلقات استوار کرنے کے لئے مختلف رنگوں میں جو کوششیں ہوئیں اُن کا مختصر ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔امام ابو حنیفہ تو ان کوششوں سے زیادہ متاثر نہ ہوئے لیکن ان کے شاگر دبڑی حد تک حکومت کا حصہ بن گئے۔ا دھر تجاز اور مصر وغیرہ میں حضرت امام مالک کا اثر تھا ان کا تعاون حاصل کرنے کی بھی پوری پوری کوشش کی گئی۔پہلے ابو جعفر منصور نے پیشکش کی کہ وہ موطا کو حکومت کا دستاویزی دستور العمل بنانا چاہتا ہے لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور کہا کہ دوسرےامصار کے علماء اس کا خیر مقدم نہیں کریں گے اور دین میں زیر دستی نہیں ہونی چاہیے پھر ہارون الرشید نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا لیکن آپ کا جواب وہی تھا کہ یہ بات مصلحت کے خلاف ہے۔تفصیل کے لئے دیکھیں مالک بن انس صفحه ۴۵ ۱۲۴۰، ۲۳۸، ۲۴۵، ۲۸۳۰۲۵۶ - محاضرات صفحه ۲۲۰ مالک بن انس صفحه ۱۹۷-۱۹۸