تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 132 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 132

تاریخ افکا را سلامی مخالفین کی طرف سے آپ کو کئی قسم کی گالیاں دی جاتی تھیں آپ پر اعتراض کئے جاتے کوئی کہتا اس کو عربی نہیں آتی۔علم حدیث سے بے بہرہ ہے۔کسی کا اعتراض تھا مر جیہ فرقہ سے مرجیہ تعلق رکھتا ہے۔اعمال کی اہمیت کو نہیں مانتا۔وہ شیعہ ہے۔اہل بیت کی محبت کا دم بھرتا ہے۔یہ زندیق ہے کافر اور یہودی ہے۔ہزاروں اعتراض ہوئے لیکن خدا جس کو بڑھانا چاہے اور جس کو نوازے اُسے کون گرا سکتا ہے۔بُرا کہنے والے مٹ گئے ان کا کوئی نام بھی نہیں جانتا لیکن امام صاحب اور ان کے لائق شاگر واب بھی قابل احترام بزرگ سمجھے جاتے ہیں اور ایک دنیا اُن کی عقیدت مند ہے لے ہے۔ایک دفعہ قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف سے پوچھا گیا۔آپ کو عظیم ترقیات ملیں کیا اب بھی کوئی تمنا باقی ہے۔آپ نے جواب دیا دو تمنائیں ہیں ایک حضرت مسعر بن کدام جیسا زہد نصیب ہو۔دوسرے ابو حنیفہ جیسا فقیہ بنا قسمت میں لکھا ہو۔ہارون الرشید نے یہ جواب سن کر کہا یہ تو خلافت کی تمنا سے بھی بڑی تمنا ہے ہے امام ابو حنیفہ کی عظمت غرض حضرت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت ایک عظیم فقیہ۔بے مثال امام اور بڑی کامل شخصیت کے مالک بزرگ تھے۔امت نے آپ کو امام اعظم کا لقب دیا اور آپ اس لقب کے بجا طور پر مستحق تھے۔عمر کے لحاظ سے بھی تمام مشہور رائمہ فقہ سے بڑے تھے۔آپ کی علمی سبقت کو بھی سبھی مانتے تھے۔تدوین علم فقہ کے آغاز کا شرف بھی آپ کو حاصل ہے۔سے آپ کے حلقہ درس میں ایسے طلبہ شریک تھے جو بعد میں عظیم انسان تسلیم کئے گئے اور ان عظیم شاگردوں کو اپنے استاد کی عظمت پر فخر تھا۔اُصول کی وسعت اور تفریعات کی کثرت کے لحاظ سے بھی آپ کی فقہ ایک لے تفصیل کے لئے دیکھیں ابو حنیفه صفحه ۳۳، ۶۵، ۱۳۲۰، ۱۸۸،۱۸۶ و مالک بن انس صفحه ۱۹۹،۱۱۷ ابو حنیفه صفحه ۵۸ نیز دیکھیں آپ کے شاگردوں کی تفصیل_ابوحنیفه صفحه ۷۶۰۷۵،۵۳ كان لابي بكر وعمر الفضل في جمع القرآن العزيز وكان لعمرين عبد العزيز فضل التفكير في تدوين السن۔۔۔۔۔۔۔۔فان لابي حنيفه فضل تدوين الفقه الاسلامي وتدريسه بابا بابا۔۔۔۔۔۔۔۔فَلُونَت في حياته وتضحمت بعد وفاته (ابوحنیفه صفحه ۵۶ و ۱۶۴ ملخصا)