تاریخ افکار اسلامی — Page 131
تاریخ افکا را سلامی IM قاضی تحریک کو امام صاحب کی یہ کڑی تنقید بہت بُری لگی اور ہمیشہ کے لئے اپنے دل میں گرہ ڈال لی۔قاضی شریک کے سامنے ایک مقدمہ آیا جس کے ایک گواہ نضر بن اسماعیل تھے اور دوسرے امام ابو حنیفہ کے بیٹے حماد دونوں بڑے فقیہ اور معز زشہری تھے لیکن قاضی شریک نے دونوں کی گواہی تر ذ کر دی - نضر پر تو یہ اعتراض کیا کہ یہ فلاں مسجد کے امام الصلوۃ ہیں اور تنخواہ لیتے ہیں اور حماد پر یہ اعتراض کیا کہ یہ اور ان کے والد دونوں بد عقیدہ ہیں اور کہتے ہیں کہ شریر ترین اور نیک ترین انسان دونوں کا ایمان برابر ہے۔L نظر پر اعتراض کے سلسلہ میں جب اُن سے کہا گیا کہ آپ بھی تو تنخواہ دار قاضی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ جب میں گواہ بن کر تیری عدالت میں آؤں تو بے شک میری گواہی رڈ کر دینا۔قاضی شریک کہا کرتے تھے کہ حنفی کا وجو دا سلام کی بد بختی ہے۔ہے امام ابوحنیفہ پر اعتراضات ایک دفعہ والی ء شہر کو کوئی علمی مضمون مطلوب تھا قاضی ابن شہر مہ اور قاضی ابن ابی لیلی کافی دیر مغز ماری کرتے رہے لیکن وہ والی کی مرضی کا مضمون تیار نہ کر سکے۔امام ابوحنیفہ کی طرف رجوع کیا گیا تو آپ نے نہایت بچے تلے الفاظ میں مضمون لکھوا دیا جو والی کو بے حد پسند آیا اور اُس نے امام صاحب کی تعریف کی۔قاضی ابن ابی لیلیٰ جب والی کے دربار سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے ساتھی قاضی ابن شبرمہ سے کہا۔اس پاولی اور مجلا ہے کے بچہ کو دیکھو کیسے سبقت لے گیا ہے۔ابن شبرمہ نے جواب دیا پاولی اور جلاہا تو وہ ہے جس سے چند سطریں بھی دیکھی جاسکیں اور محضہ میں آپے سے با ہر ہو کر علماء کو گالیاں دے رہا ہے۔یہ دراصل امام ابو حنیفہ کے اس مسلک کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے نزدیک ایمان گھٹتا بڑھتا نہیں۔الايمان لا يزيد ولا ينقص کان شریک یقول فی اصحاب ابي حنيفة انه لم يُولد في الاسلام مَنْ هُوَ أَشْأَمُ منه على الاسلام (ابو حنيفه صفحه ۱۸۸)