تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 130 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 130

تاریخ افکار را سلامی ۴۔قاضی نے عورت کو دو جرموں کا مرتکب قرار دے کر دہری سزا دی ہے حالانکہ ایک سزا کافی تھی کیونکہ اگر ایک آدمی ایک پوری جماعت پر تہمت لگائے تو سزا ایک دفعہ ہی دی جائے گی یعنی صرف اسی کوڑے لگیں گے۔- قاضی نے دونوں سزائیں اکٹھی دی ہیں حالانکہ ایسی دوسزاؤں کے درمیان جو حد کے طور پر دی جاتی ہیں کچھ دنوں کا وقفہ ہونا چاہیے تا کہ پہلی سزا کے زخم مندمل ہو جائیں۔- جن پر تہمت لگی ہے یعنی جن کو زانی کہا گیا ہے اُن کا مقدمہ اور سزا کے وقت موجود ہونا ضروری ہے اور ان کا بیان ہونا چاہیے کہ یہ الزام تہمت ہے اس میں کوئی سچائی نہیں۔ظاہر ہے کہ اس کیس میں ایسا نہیں ہوا۔قاضی ابن ابی لیلی نے اس بارہ میں والی شہر کے پاس شکایت کی کہ ابو حنیفہ ان کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں اور توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں چنانچہ والی نے آپ پر کچھ عرصہ کے لئے پابندی لگا دی کہ وہ نہ کوئی فتوی دے سکتے ہیں اور نہ کسی مسئلہ کا جواب دے سکتے ہیں لے امام ابو حنیفہ شرعی مسائل میں تنقید کو جائز سمجھتے تھے۔تنقید کرتے بھی تھے اور تنقید سنتے بھی تھے۔اُس زمانہ کے ایک مشہور قاضی شریک آپ کے سخت خلاف تھے۔ایک دفعہ قاضی شریک کے سامنے یہ سوال آیا کہ ایک شخص کو شبہ ہے کہ آیا اُس نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے یا نہیں۔قاضی شریک نے اس کا یہ جواب دیا کہ وہ شخص اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور پھر رجوع کرے تا کہ اُس کے دل کاتر ڈوڈور ہو جائے۔امام ثوری نے کہا طلاق کی ضرورت نہیں۔خاوند کا ارادہ ہی رجوع کے مترادف ہے۔امام ذکر نے فرمایا نکاح تو یقینی ہے اور شک یقین کو زائل نہیں کر سکتا اس لئے وہ حسب سابق اس کی بیوی ہے۔امام ابو حنیفہ کو جب ان آراء کا علم ہوا تو آپ نے فرمایاز قمر کی رائے اُصول فقہ کے مطابق ہے۔سفیان ثوری کا فتقومی تقومی پر مبنی ہے اور شریک کی تجویز تو ایسی ہے جیسے کوئی فتویٰ پوچھے کہ مجھے شک ہے کہ میرے کپڑوں پر پیشاب کے چھینٹے پڑے ہیں یا نہیں وہ کیا کرے تو اُسے جواب دیا جائے کہ پہلے اپنے کپڑوں پر پیشاب کر دو اور پھر ان کو دھولو کے ابو حنیفه صفحه ۸۷ کے ابو حنیفه صفحه ۱۱۳