تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 122 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 122

تاریخ افکا را سلامی ۱۳۳ آپ کا رجحان طبع زیادہ تر تصنیف و تالیف کی طرف تھا اس لیے آپ حضرت امام ابو حنیفہ کی آراء کے سب سے بڑے جامع سمجھے جاتے ہیں۔امام محمد بن حسن 132 ھ میں پیدا ہوئے۔آپ ایک خوشحال گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔آپ نے 189 ھ میں وفات پائی۔تین سال کے قریب امام ابو حنیفہ سے شرف تلمذ رہا۔اس وقت آپ بالکل نوعمر تھے اور امام صاحب اس نو نہال کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا کرتے تھے اور درس کے وقت اپنے پہلو میں بٹھاتے تھے۔اس لیے آپ طرفین یعنی استاد کے پہلو میں بیٹھنے والے کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔امام صاحب نے جب 150 ھ میں وفات پائی تو اس کے بعد آپ نے علم کی تکمیل امام ابو یوسف سے کی اور تین سال کے قریب حضرت امام مالک سے بھی شرف تلمذ حاصل رہا۔حضرت امام مالک کی روایات کا مجموعہ جو موطا کے نام سے مشہور ہے اس کے کئی نسخے ہیں جن سے دو کو شہرت دوام حاصل ہے ایک کا نام موطا امام مالک ہے جو ہر وابیت یحی بن یحی المیعی الاندلسی ہے اور دوسرے نسخے کا نام موطا امام محمد ہے جو ہر وایت محمد بن حسن الشیبانی ہے۔امام محمد بن حسن الشیبانی کئی تختیم کتابوں کے مصنف ہیں جن میں زیادہ تر میں حنفی مسلک کا بیان ہے ان کتب میں سے مندرجہ ذیل کتب بہت مشہور ہیں۔کتاب المبسوط، كتاب الزيادات الجامع الصغير، الجامع الكبير، السير الصغير، السیر الکبیر۔یہ چھ کتابیں ظاہر الروایات" کے نام سے مشہور ہیں۔آپ کی دو اور کتا بیں بھی اسی درجہ کی سمجھی جاتی ہیں۔ایک کتاب "الرد علی اہل المدینہ اور دوسری کتاب الآثار موطا امام محمد بھی کافی مشہور ہے۔امام ابو حنیفہ کے اور بھی لائق شاگر دبڑے بڑے حکومتی عہدوں پر سر فراز رہے اور علم کے میدان میں بھی بعض کی شہرت کچھ کم نہ تھی۔امام زفر ، داؤد طائی، حسن بن زیا دلولوی عبد اللہ بن المبارک اپنے زمانہ کے مشہور بزرگ تھے۔آپ کے شاگردوں کی وجہ سے آپ کی فقہی آراء کو بڑا فروغ ملا۔عراق، شام، مصر، ترکستان، افغانستان اور ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی بھاری تعداد حفی المسلک ہے۔دوسرے اسلامی ممالک میں بھی آپ کے پیرو بکثرت ملتے ہیں۔L مالک بن انس صفحه ۹۳ و الامام الشافعي صفحه ۸۰