تاریخ افکار اسلامی — Page 106
I+Y اگر بدی منع ہے تو بدی تک پہنچانے والے ذرائع اور اسباب بھی منع ہونے چاہیں اور اُن کی روک تھام کی کوشش کی جانی چاہئے لیے فقہ میں عموماً ان ذرائع پر زیادہ بحث کی جاتی ہے جو ممنوع ہیں اور فساد یا بدی کا باعث بنتے ہیں۔اسی لیے بعض اوقات اس بحث کا عنوان "سد ذرائع" لکھا جاتا ہے یعنی ان ذرائع کی تفصیل اور ان کی روک تھام کا اہتمام جو مُفضِی الی الاثم ہیں اور معاشرتی برائیوں کا باعث بنتے ہیں۔مثلاً بتوں کو گالیاں نکالنا منع ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ان بتوں کا احترام کرتے ہیں اور انہیں پوجتے ہیں ان کو برا لگے گا اور وہ چڑ کر مسلمانوں کے معبود اور بچے خدا کو گالیاں نکالنے اور برا بھلا کہنے لگیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا کہ اگر مکہ کے نئے مسلمانوں کے ابتلا کا ڈر نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر ابراہیم کی بنیا دوں پر اس کی تعمیر کرتا۔۔منگنی کا پیغام گیا ہوا ہے جب تک اس کا فیصلہ نہ ہو جائے کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں که دوه پیغام بھجوائے۔اس ارشاد کا مقصد دل شکنی اور با ہمی بدمزگی کے ذرائع کی روک تھام ہے۔ہے ۴۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ متصدق صدقہ میں دی ہوئی چیز خود نہ خریدے کیونکہ یہ امر اس بد گمانی کا باعث بن سکتا ہے کہ اس نے یہ چیز سستے داموں خریدی ہے اور ایک چیز حاصل کرنے کا بہانہ بنایا۔- حضرت عمر نے جانوروں کی قلت کے پیش نظر حکم دیا تھا کہ ہفتہ میں دودن گوشت کا ناغہ کیا جائے آپ اس حکم کی تعمیل بڑی سختی سے کراتے تھے۔حضرت زبیر کی ملکیت میں ایک مذبح تھا الذرائع هي الوسائل وان الشارع اذا طلب بامر فكل ما يوصل اليه مطلوب واذا نهى عن امر فكل ما يوصل اليه نهى عنه۔۔۔۔وكل امر مباح يوصل الى مفسدة فهو ممنوع من حيث الوسيلة الى مفسدة والحنابلة اشد المذاهب اخذا بالذرائع، مزید تفصیل کے لیے دیکھیں۔مالک بن انس صفحه ۲۲۲۲۲۱ الامام احمد صفحه ۲۳۲ محاضرات صفحه ۴۶۴۰۳۶۳:۳۳۷ الامام احمد صفحه ۲۳۰